Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 67

  1. اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ع﴿67﴾

    1. اَلْاَخِلَّآءُدوست
    2. يَوْمَئِذٍۢآج کے دن
    3. بَعْضُهُمْان میں سے بعض
    4. لِبَعْضٍبعض کے لیے
    5. عَدُوٌّدشمن ہوں گے
    6. اِلَّا الْمُتَّقِيْنَمگر تقوی والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے بجز خدا ترسوں کے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض علدو الا المتقین 67 روز قیامت کی نفسی نفسی یعنی اس دنیا میں تو ان کو اپنے دوستوں، مددگاروں، اپنی قوم و قبیلہ اور اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسا ہے اور اس بھروسے نے انہیں آخرت سے بالکل نچنت کر رکھا ہے لیکن آگے جو دن آنے والا ہے اس دن کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار اور عزیز سے عزیز دوست بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا بلکہ یہ سارے دوست آخرت میں باہمدگردشمن بن جائیں گے کہ ان کی یہ باہمی دوستی ہی ان کے لئے اس ابدی تباہی کا موجب ہوئی۔ اگر یہ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ ہوتے بلکہ اپنے خیر و شر پر آزادی و سنجیدگی سے غور کرتے تو نبی اور اس کے ساتھیوں کے کلمہ خیر کی برکت سے محروم نہ رہتے۔ اس دن ہر شخص اپنی اس محرومی پر سر پیٹے گا اور اپنے ساتھی کو ملامت کرے گا لیکن یہ سارا نالہ و شیون بالکل بےسود ہوگا۔ پیچھے آیات 39-36 میں یہ مضمون نہایت عمدہ اسلوب سے بیان ہوچکا ہے۔ الا المتضین یعنی خدا کے باایمان اور متقی بندے اس انجام بد سے محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو حق و عدل کی نصیحت کی اور اسی پر خود بھی عامل رہے اس وجہ سے قیامت کے دن وہ اپنی کامیابی پر شادمان ہوں گے اور اپنے ساتھیوں کا سلام و تحیت کے ساتھ خیر مقدم کریں گے۔