تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 80
اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ﴿80﴾
- اَمْ يَحْسَبُوْنَیا وہ سمجھتے ہیں
- اَنَّابیشک ہم
- لَا نَسْمَعُنہیں ہم سنتے
- سِرَّهُمْان کی راز کی باتیں
- وَنَجْوٰىهُمْاور ان کی سرگوشیاں
- بَلٰىکیوں نہیں
- وَرُسُلُنَااور ہمارے بھیجے ہوئے
- لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَان کے پاس لکھ رہے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن رہے ہیں ؟ ہاں، ہم سن رہے ہیں اور ہمارے فرستادے ان کے پاس لکھ رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ام یحسبون انا لانسمع سرھم ونجولھم ط بلی ور سلنا لدیھم یکتبون (80)
خفیہ سرگوشیوں کی طرف اشارہ
اللہ تعالیٰ یوں تو لوگوں کے ہر راز اور ان کی ہر سرگوشی کو جانتا ہے لیکن سیاق و سبقا کلام یہاں دلیل ہے کہ اس سے خاص طور پر ان سرگوشیوں کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے لیڈر دارالندوہ وغیرہ میں آنحضرت ﷺ کے قتل یا اخراج سے متعلق کر رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ خدا ان کی سازشوں اور سرگوشیوں سے بیخبر ہے۔ وہ ان کی تمام خفیہ حرکتوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور اس کے فرشتے ان کی ایک ایک بات کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔ یہ جس وقت پیغمبر کے باب میں اپنا آخری فیصلہ کرلیں گے خدا کا فیصلہ بھی ان کے باب میں ظہور میں آجائے گا۔ پھر ان کے تمام منصوبے دھرے رہ جائیں گی اور خدا کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔