تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 35
ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿35﴾
- ذٰلِكُمْیہ بات
- بِاَنَّكُمُبوجہ اس کے کہ یقینا تم
- اتَّخَذْتُمْبنا لیا تم نے
- اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کو
- هُزُوًامذاق
- وَّغَرَّتْكُمُاور دھوکے میں ڈالا تم کو
- الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی نے
- فَالْيَوْمَتو آج
- لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْهَانہ وہ نکالے جائیں گے اس سے
- وَلَا هُمْاور نہ وہ
- يُسْتَعْتَبُوْنَعذر قبول کیے جائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس وجہ سے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈالے رکھا۔ پس آج نہ تو وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزوا وغرتکم الحیوۃ الدنیاج فالیوم ولایخرجون منھا ولا ھم یستعتبون 35
یعنی تم اس رویہ کے سزا وار اس وجہ سے ٹھہرے کہ جب تم کو اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ان کا مذاق اڑاتے اور اس طرح وہاں سے چل دیتے گویا تم نے کوئی بات سنی ہی نہیں۔ آیات 9-8 میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
وغرتکم الحیوۃ الدنیا، یعنی تم کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو رفاہیت و خوش حالی بخشی اس سے تم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ تم اسی کے سزا وار و حقدار ہو اور تمہاری یہ خوش حالی اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارے عقیدہ یا عمل میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اس غرور میں مبتلا ہو کہ تم نے ان لوگوں کا مذاق اڑایا، جنہوں نے تمہارے عقائد و اعمال کے فساد کی طرف تم کو توجہ دلانے کی کوشش کی اور ان کو یہ طعنہ دیا کہ بتائو ہمارے حالات اچھے ہیں یا تمہایر ؟ جب ہمارے حالات تم سے بدر جہا بہتر ہیں تو ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ ہمارے ہی عقائد و اعمال بھی اچھے ہیں اور خرابی ہمارے اندر نہیں بلکہ تمہارے ہی دماغوں کے اندر ہے۔
فالیوم لایخرجون منھا ولا ھم یستعتبون فرمایا کہ ان کے اس غرور کی پاداش میں نہ تو ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب ہوگا اور نہ ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے رب سے معافی مانگ کر اس کو راضی کرسکیں تو راضی کرلیں۔ بلکہ ان کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس ٹکڑے میں اسلوب کی اچانک تبدیلی قابل توجہ ہے اوپر کے ٹکڑے میں اسلوب خطاب کا تھا اس میں دفعتہ غائب کا اسلوب آگیا گویا نظر انداز کئے جانے کی جو دھمکی ان کو دی گئی تھی اس کا عمل شروع ہوگیا یہاں تک کہ وہ اس قابل بھی نہیں رہے کہ ان کو خطاب کر کے کوئی بات کہی جائے۔ یہاں محلوظ رہے کہ غائب کا اسلوب نظر انداز کئے جانے کے مواقع میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔