تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 34
وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿34﴾
- وَقِيْلَاور کہہ دیاجائے گا
- الْيَوْمَآج
- نَنْسٰىكُمْہم بھلائے دیتے ہیں تم کو
- كَمَا نَسِيْتُمْجیسا کہ تم بھول گئے
- لِقَآءَملاقات کو
- يَوْمِكُمْ ھٰذَاتمہارے اس دن کی
- وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُاور ٹھکانہ تمہارا آگ ہے
- وَمَا لَكُمْاور نہیں تمہارے لیے
- مِّنْ نّٰصِرِيْنَمددگاروں میں سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو نظر انداز کریں گے جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں بننے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقیل الیوم فنسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا وما ولکم النار ومالکم مننصرین 34
نسی، یہاں نظر انداز کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی ان کو پہلے ہی مرحلہ میں آگاہ کردیا جائے گا کہ جس طرح تم نے دنیا میں اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کے نظر انداز کئے رکھا اور اس ہولناک دن کی پیشی سے انہوں نے تم کو آگاہ کیا تو تم نے سنی ان سنی کردی اسی طرح آج ہم تک و نظر انداز کریں گے۔ تم کتنا ہی چیخو اور چلائو لیکن ہمارے ہاں تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہونی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ کہ اگر تم کو اپنی جمعیت پر ناز تھا تو وہ بھی آج تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی اور اگر اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسہ تھا تو وہ بھی تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔