تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 7
وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿7﴾
- وَيْلٌہلاکت ہے
- لِّكُلِّواسطے ہر
- اَفَّاكٍبہت جھوٹے
- اَثِيْمٍبہت گناہ گار کے
Translation · Tadabbur-e-Quran
سو ہلاکت ہے ہر اس لپاٹیے گنہگار کے لئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ویل لکل افاک اثیم، یسمع ایات اللہ تتلی علیہ ثم یصر متکبراً کان لم یسمعھا، ج فبشوہ بعذاب الیم (8-7)
یہ اسی ملامت کے مضمون کی مزید توسیع ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح تمام حقائق تلپٹ کردیے ہیں تاکہ اپنی گہنگار انہ زندگی کے لئے سند جواز فراہم کریں ان کے لئے ہلاکی ہے۔
افاک اور اثیم ،
افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کر دنیے والا، یعنی خدا کی نشانیاں اور اس کی آیات تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کی بالکل قلب ہیت کر دے۔ اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے جنہوں نے محض اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں دین ابراہیم کو مسخ کیا لیکن اس کے عام مصداق میں ہر دور کے وہ محرفین دین شامل ہیں جو اللہ کی آیات اور اس کے احکام میں اپنی خواہشات کے تحت تحریف کے مرتکب ہوئے یا ہو رہے ہیں۔
اثیم کے معنی گنہگار، خاص طور پر حقوق و فرئاض کے تلف کرنے والے کے ہیں۔ افاک کے ساتھ اس صفت کا جوڑ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ حقائق کے قلب ہیت کی اس سازش کے مرتکب و ہی نابکار ہوتے ہیں جو خدا کے حقوق و فرائض کے ادا کرنے سے گریز اور اپنی معصیت کی زندگی پر اصرار کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ ان بدبختوں کے لئے ہلاکی اور تباہی ہے اس لئے کہ اللہ کی آیات ان کو سنائی جا رہی ہیں لیکن یہ نہایت تکبر کے ساتھ ان کو سن کر اس طرح چل دیتے ہیں گویا کوئی بات انہوں نے سنی ہی نہیں۔ یہ اشارہ قریش کے لیڈروں کے اس رویے کی طرف ہے جو وہ نبی ﷺ کی دعوت کے جواب میں اختیار کرتے۔ اول تو یہ لوگ مجلس نبوی میں جانے ہی کو عار خیال کرتے لیکن کبھی پہنچ بھی جاتے یا آنحضرت ﷺ خود ان کے پاس جا کر ان کو قرآن سناتے تو اس طرح کان جھاڑ کر اٹھ جاتے گویا کوئی بات انہوں نے سنی ہی نہیں۔
تتلی علیہ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگر دعوت حق کسی کو پہنچی نہ ہو اور وہ اس سے غافل رہ جائے تو اس کے لئے کچھ عذر ہوسکتا ہے لیکن وہ بدبخت خدا کو کیا جواب دے گا جس کے کانوں میں رسول نے خود جا کر اذان دی لیکن وہ بیدار نہ ہوا !
اصرار علی الشرک کا اصل سبب استکبار ہے۔
یصر مستکبراً ، میں اصرار علی الشرک کے اصل سبب پر روشنی پڑتی ہے کہ ان کے اصرار کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان پر حقیقت واضح نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اس بات میں اپنی سبکی سمجھتے ہیں کہ قوم کے سردار اور اعیان و اشراف ہو کر ایک ایسے شخص کی بالاتری اپنے اوپر تسلیم کرلیں جو دنیوی وجاہت میں ان کا ہم سر نہیں ہے۔
فبشرہ بعذ اب الیم یہ اس ویل کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا کہ اس طرح کے تمام متکبرین کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ یہ لوگ اگر اپنے غرور کے باعث نجات کی بشارت سے اپنے کان بند کئے ہوئے ہیں تو بندرکھیں، عذاب کی خوش خبری بہرحال ان کو ہپنچا دو جو اس طرح کے لوگوں کے لئے لازمی ہے۔