تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 6
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُ اللّٰهِاللہ کی آیات ہیں
- نَتْلُوْهَاہم پڑھتے ہیں ان کو
- عَلَيْكَ بالْحَقِّآپ پر حق کے ساتھ
- فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢتو ساتھ کون سی بات کے
- بَعْدَ اللّٰهِبعد اللہ کے
- وَاور
- اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَاس کی آیات کے وہ ایمان لائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں بالکل حق کے ساتھ سنا رہے ہیں تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق، فبای حدیث، بعد اللہ مایتہ یومنون (6)
آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کو ملامت
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخلافین کو ملامت ہے۔ تلک کا اشارہ آفاق وانفس کی انہی نشانیوں کی طرف ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور اس کے روز جزاء و سزا کی یہ نشانیاں ہیں جو اس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو ان کے صحیح نتائج ولوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ انہی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمہارے یہ مخالفین ان نشانیوں کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اب ان سے زیادہ عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی اور کون سی چیز ہو سکتی ہے جس پر ایمان لائیں گے !
بالحق کا مفہوم
نتلوھا علیک بالحق میں بالحق سے مراد وہ قطعی اور حقیقی نتائج ہیں جو ان نشانیوں پر غور کرنے سے سامنے آتے ہیں۔ یہ قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں تک ان نشانیوں پر غور کرنے کا تعلق ہے ان پر غور تو دوسرے بھی کرتے ہیں لیکن وہ اپنے مخصوص اور نہایت محدود زاویہ سے غور کرتے ہیں اس وجہ سے یا تو ان حقائق تک پہنچ نہیں پاتے جو ان کے اندر مضمر ہیں یا پہنچتے تو ہیں لیکن چونکہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں اس وجہ سے ان کے اعتراف سے گریز کرتے ہیں۔ مثلاً آسمان و زمین کی نشانیوں پر فلکیات و ارضیات کے ماہرین بھی غور کرتے ہیں۔ انسان کی خلقت پرانا ٹومی (Anatomy) والے بھی تحقیق کرتے ہیں، حیوانات کے مختلف پہلوئوں پر علم الحیوانات والے بھی سر کھپاتے ہیں، رات اور دن کی گردش، بارشوں کے اوقات و اثرات اور ہوائوں کے تغیر و تبدل پر موسمیات والے بھی بہت کچھ ہوا باندھتے ہیں لیکن ان سب کا حال ان کی تنگ نظری کے سبب سے یہ ہے کہ یہ اپنی دور بینیوں اور خورد بینیوں سے تل کو تو دیکھ لیتے ہیں لیکن تل کے اوٹ کا پہاڑ ان کو نظر نہیں آتا۔ موسمیات والے یہ پیشنگوئی تو کردیں گے کہ آگے چوبیس گھنٹے موسم گرم و خشک رہے گا اور اس کی کوئی الٹی سیدھی توجیہ بھی کردیں گے۔ اکثر حالات میں ان کی پیشین گوئی صحیح بھی ثابت ہوتی ہے اور بعض حالات میں ان کی پیش کردہ توجیہ سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی نگاہ صرف ہوائوں کے تصرف کی نوعیت اور اس کے اثرات کا اندازہ کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر وہ اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ ان تصرفات کے پس پردہ حقیقی مصرف کون ہے اور اس کے حقوق و فرائض کیا ہیں ! حالانکہ کائنات کے اندر یہ تمام تصرفات و تغیرات ہوتے ہیں یہ اسی لئے ہوتے ہیں کہ انسان اس اصل سوال تک پہنچے، اس کا حل دریافت کرے اور اگر خدا کا کوئی بندہ اس کو اس سوال کو کوئی دلنشیں حل بتائے تو اس کو قبول اور اس پر عمل کرے۔ قرآن نے ان نشانیوں کے انہی پہلوئوں کو خاص طور پر بےنقاب کیا ہے جو اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں اس وجہ سے اس کو نتلوھا علیک بالحق سے تعبیر فرمایا ہے۔
دو اہم حقیقتیں
اس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر آفاق وانفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہے۔ جو لوگ ان کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں اس وجہ سے ان سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے جو ان کی خواہش کے خلاف ہے اگرچہ وہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہو کر ان کے سامنے آئے۔
دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات میں س سے زیادہ بدیہی بلکہ ابدہ البدیہات اللہ اور اس کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ ان کے منکر ہیں وہ کسی بھی حقیقت کو ماننے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ محض اپنی خواہشوں کے غلام، اپنے پیٹ اور تن کے پجاری ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر کچھ نئی نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کریں تو ان کے مطالبات لائق توجہ نہیں ہیں۔ اس طرح کے اندھوں کی آنکھیں کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی نہیں گھول سکتا۔