تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 30
قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿30﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- يٰقَوْمَنَآاے ہماری قوم
- اِنَّا سَمِعْنَابیشک ہم نے سنی
- كِتٰبًاایک کتاب
- اُنْزِلَنازل کی گئی
- مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰىموسیٰ کے بعد
- مُصَدِّقًاتصدیق کرنے والی
- لِّمَااس کی
- بَيْنَ يَدَيْهِجو اس سے (اپنے سے) پہلے
- يَهْدِيْٓوہ رہنمائی کرتی ہے
- اِلَى الْحَقِّحق کی طرف
- وَاِلٰىاور طرف
- طَرِيْقٍراہ
- مُّسْتَقِيْمٍراست
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے کہا کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتی ہوئی جو اس کے باب میں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ کتاب حق اور ایک سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوا یقومنا انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین بدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، یقومنا اجیبوا داعی اللہ کی آمنوا بہ یغترتکم من ذنوبکم و یخرکم من عذاب الیم، ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء ط اولئک فی ضل مبین 32-30)
جنوں کی دعوت اپنی قوم کو
یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنی گمراہ قوم کو دی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی ہے جو اس کے باب میں سابق صحیفوں میں وارد ہوئی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد صاحب شریعت نبی آنحتر ﷺ ہی میں آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بنی اسرائیل میں گزرے سب حضرت موسیٰ ؑ ہی کی شریعت کے پیرو تھے۔ اسی طرح قرآن سے پہلے اصل کتاب کی حیثیت صرف تورات کو حاصل ہوئی ہے اور اس کے آسمان ہونے کے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ ٹھیک ٹھیک اور ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی جو اس کے باپ، پہلے سے تورات اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں موجود تھیں۔
یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، بہب بات سورة جن میں انہی جنوں کی زبان سے معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یوں نقل ہوئی ہے، انا سمعنا قراناً عجبا، یھدی الی الرشد فامتا بہ ط ولن نشرک بربنا احدا (الجن 201:1) (ہم نے ایک عجیب و غریب قرآن سنا ہے، جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھرائیں گے) ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حق سے مراد یہاں عقیدہ توحید ہے جو خدا تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے لفظ حق اس عقیدہ کے رسوخ و استحکام اور اس کے مطابق حقیقت و موافق عقل و فطرت ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور صراط مستقیم سے اس کے آسان ہموار اور کج پیچ سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں ہی باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے ہے۔
اجیبوا داعی اللہ وامنوا بہ … الایہ یہ وہ اصل دعوت ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی کہ اللہ کے اس داعی پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو۔ وامنوا بہ اسی لبیک کہنے کی وضاحت ہے کہ اصل مطلوب شے ایمان ہے۔ جو ایمان لائیں گے اللہ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور ایک درد ناک عذاب سے ان کو نجات دے گا۔
حقوق العباد کے معاملات کی نزاکت
من ذنوبکم میں من تبعیض کے لئے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں جن کی معافی کا معاملہ اس ایمان کے بعد بھی محلول رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہ سنگین قسم کے گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ حقوق العباد کی معافی کے لئے یہ ضروری ہے کہ آدمی ان کی تلافی کیرز۔ اگر ان کی تلافی نہیں کی گئی ہے یا تلافی کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا یہی ہے کہ یہ معاملہ فریقین کی موجودگی میں آخرت کی عدالت میں پیش ہو۔ وہاں کیا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن اتنی بات واضح ہے کہ تلافی کا موقع ہوتے ہوئے اگر تلافی نہیں کی گئی ہے تو یہ چیز ایمان کے تاقضے کے خلاف ہے اور اگر تلافی کا موقع ہاتھ سے نکل جا چکا ہے تو امید ہے کہ آدمی کا سچا احساس، سچی توبہ، سچی ندامت اور اس کی وہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے سفارشی بنیں جو وہ اپنے جرائم کی تالفی کے لئے اپنی بعد کی زندگی میں مرتے دم تک کرے گا۔
قنوطیت کی طرح بےجا رجائیت بھی فتنہ ہے
جن لوگوں نے اس آیت کے اندر من کو ایک بالکل زائد چیز سمجھ کر اس کی تاویل کی ہے انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ قرآن میں ایک حرف بھی زائد نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں سج طرح بےجا قنوطیت ناجائز ہے اسی طرح بےجا رجائیت بھی ایک فتنہ ہے۔ نقطہ اعتدال بیم و رجادونوں کے بین بین ہے۔
ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء اولئک فی ضلل مبین یہ بات اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تضمین کے طور پر بھی ہو سکتی ہے لیکن نظائر قرآن کی روشنی میں میرے نزدیک یہ جنوں ہی کے قول کا ایک حصہ ہے۔ سورة جن میں ان کی یہی بات بدیں الفاظ نقل ہوئی ہے۔
وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ھرباہ والجن 12)
اور یہ کہ ہم نے جان لیا ہے کہ نہ ہم زمین میں خدا کے قابو سے باہر نکل سکتے نہ آسمان میں بھاگ کر اس کو ہرا سکتے۔
ولیس لہ من دونہ اولیآء کا تعلق آخرت سے ہے۔ یعنی جس طرح اس دنیا میں وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں ہو سکتے اس طرح آخرت میں بھی خدا کے مقابل میں ان کا کوئی مددگار و کار ساز نہیں بنے گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنات بھی قرآن کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح بنی نوع انسان مخاطب ہیں اور نبی ﷺ جنات کے بھی اسی طرح رسول ہیں جس طرح ہمارے لئے ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو جنوں کے اس قول کا کیا مطلب کہ یقومنا اجینوا داعی اللہ وا منوا بہ (اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو) اور اگر اثبات میں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسالت سے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہمیشہ سے جاری ہے اور جو قرآن میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔ وہ نبی ﷺ کے باب میں بدل دی گئی ؟ رسولوں کے ابب میں سنت الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ اسی قوم کے اندر سے مبعوث ہوئے جس کی دعوت پر وہ مامور ہوئے۔ اسی زبان میں انہوں نے اپنی دعوت پیش کی جو پوری قوم کی زبان تھی۔ قوم ہی کے اندر انہوں نے اپنی زندگی گزاری اور اس کے ہر طبقہ کے پاس خود جا جا کر، ان کو جھنجھوڑا، جگایا اور ان پر اللہ کی حجت تمام کی۔ اس کے بعد اگر قوم ایمان نہیں لائی تو انہوں نے اس سے اعلان برأت کر کے ہجرت کی اور قوم پر اللہ کا عذاب آیا۔ کیا یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ نے جنوں کے اندر بھی یہ تمام ذمہ داریاں اسی طرح ادا فرمائیں جس طرح انسانوں کے اندر ادا فرمائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا پھر یہ بات بھی ہے کہ رسول کی ساری زندگی اس کے متبعین کے لئے اسوہ اور نمونہ ہوی ہے کیا جنات کے لئے کسی بشر کی زندگی کامل اسوہ اور نمونہ ہو سکتی ہے جب کہ یہ بات بالبداہت معلوم ہے کہ ہم انسانوں کے لئے کسی فرشتہ یا جن کی زندگی اسوہ اور نمونہ نہیں ہو سکتی ؟ چناچہ قرآن نے ان لوگوں کے جواب میں جو مطالبہ کرتے تھے کہ ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو کیوں بھیجا گیا، کسی فرشتہ کو کیوں نہیں بھیجا گیا، کہا بھی ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے کوئی فرشتہ کس طرح بھیجا جاتا۔ اگر فرشتہ بھیجا جاتا تو وہ بھی بہرحال انسانوں ہی کے بھیس میں آتا۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی خلقت دو بالکل متضاد عناصر سے ہوئی ہے تو لازماً دونوں کی سرشت، دونوں کے مزاج دونوں کی معاشرتی، سماجی اور تمدنی ضروریات اور دونوں کے احکام و شرائع میں بڑا فرق ہوگا۔ ان میں مشترک ہو سکتے ہیں تو توحید، معاد اور خیر و شر کے بنیادی کلیات ہی ہو سکتے ہیں، باقی امور تو بہرحال الگ الگ ہوں گے اس وجہ سے قرآن ان کی رہنمائی کرسکتا ہے تو صرف عقائد اور اخلاقی کلیات کی حد تک ہی کرسکتا ہے۔ زندگی کے دوسرے ابواب میں لازماً و محتاج ہیں کہ ان کے اندر انہی کے اندر سے رسول آئیں جو ان کی رہنمائی ان کے فطری تقاضوں ان کی ضروریات اور ان کے حالات و مسائل کے مطابق کریں تاکہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو سکے۔
یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے قرآن پر غور کیجیے تو یہی بات اس سے بھی نکلتی ہے۔ اوپر قرآن سے متعلق جنوں کا جو تاثر نقل ہوا ہے اس کا علم آنحضرت ﷺ کو براہ راست نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے ہوا۔ بعینیہ یہی تاثرات جنوں کے، زیادہ تفصیل کے ساتھ، سورة جن میں نقل ہوئے ہیں۔ وہاں بھی اس بات کی تصریح موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان تاثرات کا علم وحی الٰہی کے ذریعہ سے ہوا۔ چناچہ اس سورة کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے : قل ادحی الی انہ استمع نصرمن الجن فقالوآ انا سمعنا قرآن اعجبیا الجن :1) (لوگوں کو بتا دو کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک پارٹی نے قرآن کو سنا تو انہوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے ایک عجیب و غریب کلام سنا ہے) اگر نبی ﷺ ان کے بھی رسول ہوتے تو ان کے ان سارے تاثرات کا علم آپ کو براہ راست ہونا تھا۔ آپ کو ان کے اندر اسی طرح تبلیغ و دعوت کا فرض ادا کرنا چاہئے تھا جس طرح آپ نے اہل عرب کے اندر یہ فرض ادا کیا، لیکن قرآن سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ بعض روایات سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جنوں کے ایک آدھ وفود آپ کے پاس آئے اور خود آپ بھی بعض وفود کی دعوت پر ان سے ملنے گئے لیکن اول تو ان رویا ات میں ایسا اضطراب ہے کہ وہ روایت و درایت دونوں کی کسوٹی پر جانچے جانے کی محتاج ہیں، دوسرے ان سے زیادہ سے زیادہ جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض مرتبہ جنوں کے وفود آپ سے ملے یا ایک آدھ بار آپ ان کی دعوت پر ان کے پاس لئے۔ صرف اتنی سی بات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ آپ نے بحیثیت ان کے رسول کے ان کے اندر اپنا فرض رسالت ادا فرمایا۔
رہی یہ بات کہ ان جنوں نے قرآن کی تعریف کی اور اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جہاں تک کلیات دین کا تعلق ہے وہ انسانوں اور جنوں کے درمیان بالکل مشترک ہیں بلکہ ہمارے اور فرشتوں کے درمیان بھی مشترک ہیں بلکہ اس سے ایک قدم بڑھ کر یہ دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے کہ ان میں چرند و پرند، شجر و حجر اور شمس و قمر سب شریک ہیں۔ اس وجہ سے جس طرح حضرت دائود ؑ کے نغمات حمد میں پرندے اور پہاڑ ان کی ہمنوائی کرتے تھے، اسی طرح جنوں کے صالحین کی اس پارٹی نے قرآن سنا تو عش عش کر اٹھی اور اس نے اپنی قوم کو بھی توحید اور آخرت پر ایمان لانے اور خدا کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی دعوت دی۔ جنوں کی جو دعوت اوپر مذکور ہوئی ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالیے اور سورة جن پر بھی، جس میں ان کی دعوت پوری تفصیل سے فقل ہوئی ہے، ایک نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے انہی باتوں کا ذکر کیا ہے جو ان کے اور انسانوں بلکہ تمام کائنات کے اندر مشترک ہیں۔ اس سے یہ بات تو ضرور ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کی بنیادی دعوت انسانوں اور جنوں دونوں کے لئے یکساں ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نبی ﷺ جنوں کے لئے بھی اسی طرح رسول تھے جس طرح انسانوں کے لئے تھے۔ جن لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان کی بات اس سنت الٰہی کے خلاف ہے جو قرآن میں رسالت سے متعلق نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔
یہاں ایک اور ضمنی بات کی طرف اشارہ کردینا بھی ضروری ہے۔
اوپر کی آیات میں جنات کے اہل ایمان کے لئے چونکہ صرف عذاب الیم سے نجات کا ذکر ہوا ہے، ان کو صریح الفاظ میں دخول جنت کی بشارت نہیں دی گئی ہے اس وجہ سے امام ابوحنیفہ ؒ سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہ صالحین جن کے لئے دخول جنت کے قائل نہیں تھے یا کم از کم یہ کہ وہ یہ بات صریح الفاظ میں کہنے سے احتیاط کرتے تھے، ہماری سمجھ میں امام صاحب کی یہ احتیاط کسی طرح نہیں آئی۔ جب جنات کے بروں کے لئے دوز، لازمی ہے تو آخر ان کے صلاحین جنت سے کیوں محروم رہیں گے ؟ بعض متاخرین نے امام صاحب ؒ کے اس مسلک کی تائید میں یہ دلیل دی ہے کہ خدا کے اوپر کسی کا حق قائم نہیں ہے اس وجہ سے اگر وہ کسی کے صلاح وتقویٰ کے باوجود اس کو جنت میں نہ داخل کرے تو یہ بات خلاف عدل نہیں ہے ہمارے نزدیک یہ دلیل بالکل لا یعنی ہے۔ خدا کے اوپر کوئی دوسرا تو کوئی حق قائم نہیں کرسکتا لیکن جو حقوق اس نے از خود اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اپنے اوپر قائم کر رکھے ہیں اور جن کو پورا کرنے کا نہایت قطعی اور حتمی الفاظ میں اس نے اپنے صالح بندوں سے وعدہ کیا ہے آخر ان سے اس کے نیک بندو کو، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے، وہ کیوں محروم رکھے گاڈ ہمارا خیال ہے کہ امام صاحب نے اگر فرمائی ہوگی تو یہ بات فرمائی ہوگی کہ صالحین جن اس جنت میں نہیں جائیں گے جو انسانوں کے لئے ہے۔ اگر انہوں نے یہ بات فرمائی تو اس کا ایک محل ہے۔ اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة جن کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کریں گے۔