Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 29

  1. وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ﴿29﴾

    1. وَاِذْاور جب
    2. صَرَفْنَآہم پھیر لائے
    3. اِلَيْكَآپ کی طرف
    4. نَفَرًاایک جماعت
    5. مِّنَ الْجِنِّجنات کی
    6. يَسْتَمِعُوْنَوہ سنتے تھے
    7. الْقُرْاٰنَ ۚقرآن
    8. فَلَمَّاپس جب
    9. حَضَرُوْهُوہ حاضر ہوئے ان کے پاس
    10. قَالُوْٓاانہوں نے کہا
    11. اَنْصِتُوْا ۚچپ رہو
    12. فَلَمَّاپھر جب
    13. قُضِيَ(پڑھنا) تمام ہوا
    14. وَلَّوْاوہ لوٹے
    15. اِلٰى قَوْمِهِمْاپنی قوم کی طرف
    16. مُّنْذِرِيْنَڈر سناتے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو جب کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کردیا قرآن سننے کے لئے تو جب وہ اس کے پاس آئے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ خاموش ہو کر سنو ! جب وہ تمام ہوچکا تو وہ اپنی قوم کی طرف انداز کرتے ہوئے لوٹے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-6 آگے آیات 35-29 کا مضمون آگے نبی ﷺ کو چند آیات میں تسلی دی گئی ہے کہ اگر تمہاری قوم کے لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو یہ اس کتاب کا یا تمہارا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ خود ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے ورنہ اس کتاب کی دلکشی اور اثر آفرینی کا حال تو یہ ہے کہ اگر صالحین جن کی کسی جماعت کیکانوں میں اتفقا سے بھی اس کی آواز پڑگئی ہے تو وہ سراپا گوش ہو کر اس طرف متوجہ ہوگئے ہیں اور پھر اس کی دعوت لے کر اپنی قوم کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حیف ہے اگر یہ لوگ جن کے لئے یہ کتاب اتاری گئی ہے، اس کی قدر نہ کریں۔ اس کے بعد خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں کفار کے لئے تہدید و وعید اور آنحضرت ﷺ کو صبر و عزیمت کی تلقین ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت واذصرفنآ الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن فلما حضروہ قالوآ انصتوا فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین 29 جنوں کے قرآن سننے کے واقعہ کی نوعیت صرفنا آلیک کے اسلوب بیان سے یہ بانت نکلتی ہے کہجنوں کے قرآن سننے کے یہ واقعہ بالکل اتفاقاً ، محض اللہ تعالیٰ کی کار سازی سے پیش آگیا۔ نبی ﷺ نے اس کے لئے کوئی اہتمام فرمایا اور نہ جنوں ہی نے اس کا پہلے سے کوئی ارادہ کیا تھا۔ بس اللہ نے سررا ہے ان کی ایک پارٹی کو متوجہ فرما دیا کہ وہ نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے ذرا سن لیں۔ چناچہ انہوں نے سنا اور اسی سننے کا اثر ان پر یہ پڑا کہ وہ اس کے گرویدہ ہوگئے اور ایسے گرویدہ ہوئے کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ طائف والوں کے رویہ سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس ہوئے ہیں تو راستہ میں نخلہ میں آپ نے رات گزاری ہے۔ وہیں شب کی نمازوں میں سے کسی نماز میں آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔ اسی موقع پر جنوں کی اس پارٹی نے قرآن سنا اور اس پر وہ اثر پڑا جو اوپر مذکور ہوا اور جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ مقصود اس واقعہ کے ذکر سے اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جن کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا، جن کی اصلاح کے لئے اللہ کا رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہے، جن کی تلاش میں وہ مکہ سے سفر کر کے طائف تک پہنچتا ہے وہ تو نہ صرف یہ کہ اس کلام کو سننے کے روا دار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جنات کا حال یہ ہے کہ ان کے اندر جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سر را ہے بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں تو سن کر تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی قوم کے اندر اس کتاب کے داعی بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ خرابی قرآن اور اس کے پیش کرنے والے کے اندر نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اندر ہے جو اس سے گریز کر رہے ہیں۔ مکہ اور طائف کے گنڈوں پر تعریض فلما حضروہ قالوا انصتوا یعنی قرآن کی بھنک کان میں پڑتے ہی انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کی کہ خاموش اور مئودب ہو کر اس لا ہوتی کلام کو سنو کہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ ان کے اس حسن ادب کا حوالہ مکہ اور طائف کے ان گنڈوں کی بدتمیزیوں پر تعریض ہے جن کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے کہ وہ اپنے کارندوں کو یہ سکھاتے کہ جب قرآن سنایا جائے تو اس میں خوب گڑ بڑ پیدا کرو کہ اس کی آواز دب جائے اور تم غالب رہو۔ ان کے اسی رویہ کا ذکر سورة جن میں بدیں الفاظ ہوا ہے، وانہ لما تمام عبداللہ یدعوہ کا دوا یکونون علیہ لبداً (الجن 19) (اور یہ کہ بج اللہ کا بندہ، خالص اللہ ہی کی دعوت کے لئے اٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔) جنوں کے بچے تاثر کی شہادت فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین، یہ بات ان کے سچے اور حقیقی تاثر کی شہادت کے طور پر بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے صرف واہ واہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہہ دینے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کو بھی اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جن سے اس کتاب نے لوگوں کو آگاہ کیا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ کسی اچھی اور سچی بات پر واہ واہ کردینے والے تو برے سے برے زمانے میں بھی نکل آتے ہیں لیکن اس واہ واہ کی اس وقت تک کوئی قیمت نہیں ہے۔ جب تک زندگی کے اندر اس سے کوئی عملی تبدیلی نہ واقع ہو۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت پر سردھننے والے اور اس کی تعریف میں آسمان و زمین کے فلابے ملانے والے اس زمانے میں بھی بہت ہیں لیکن اس پر عمل کرنے والے اگر آپ ڈھونڈھیں تو وہ عنقا ہیں۔ ان جنوں کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ ان پر اس کتاب کا یہ اثر پڑا کہ وہ اپنی بگڑی ہوئی قوم کے اندر، تمام خطرات سے بےپروا ہو کر، اس کی منادی کرنے اٹھ کھڑے ہوئے۔