Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 5

  1. وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ﴿5﴾

    1. وَمَنْ اَضَلُّاور کون بڑا گمراہ
    2. مِمَّنْاس سے جو
    3. يَّدْعُوْاوہ پکارتا ہے
    4. مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    5. مَنْجو
    6. لَّا يَسْتَجِيْبُجواب نہ دے گا
    7. لَهٗٓاس کو
    8. اِلٰىتک
    9. يَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کا دن
    10. وَهُمْاور وہ
    11. عَنْ دُعَآئِهِمْان کے پکارنے سے
    12. غٰفِلُوْنَبیخبر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ان کی دہائی دیتے ہیں جو تاقیامت ان کو جواب دینے والے نہیں ہیں اور وہ ان کی دعائوں سے بیخبر بھی ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستعجیب لہ الی یوم القمیۃ وھم عن دعآئھم غفلون، واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین (6-5) مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقتی اور بیخبر ی یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انہیں خبر نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے ! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں جن کا کوئی مسمی سرے سے موجود ہی نہ تھا، اس وجہ سے ان کے کسی چیز سے باخبر ہنے یا کسی دعا کے قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی وہ ہستیاں جن کی کچھ حقیقت ہے مثلاً ملائکہ یا جنات جن کی پرستش مشرکین عرب کرتے تھے یا حضرت مسیح ؑ جن کی پرستش عیاسئیک رتے تھے وہ تو بذات خود کسی کی دعاء فریاد سے واقف بھی نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ اس کو قبول کرسکیں، سورة مائدہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بنائو، وہ جواب دیں گے کہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا ! میں نے ان کو وہی بتایا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔ میرے بعد انہوں نے کیا بنایا اس کی خبر مجھے نہیں ہے۔ اس کو تو ہی جانتا ہے۔ سور فرقان میں فرشتوں کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے۔ ویوم یحشرھم ومایعبدون من دون اللہ فیقول انتم اضللتم عبادی ھولآء ام ھم ضلوا السبیل، قالوا سبحانک ما کان ینبغی لنا ان نتخذمن دونک من اولیآء ولکن متعتھم وابآء ھم حتی نسوا الذکر، وکانوا قوماً بوراً (الفرقان :18-17) اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ ان کو اور ان سب کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اکٹھا کرے گا، پس پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے خواہ راہ کھوئی ؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے ہمارے لئے یہ زیبا نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسرے کو کار ساز بناتے بلکہ یوں ہوا کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد دہانی بھول بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے ، اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک انبیاء اور صالحین کا تعلق ہے وہ تو ساری ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال دیں گے جنہوں نے ان کی تعلیم کے بالکل خلاف ان کو شریک خدا ٹھہرایا اور ان کی پرستش کی۔ رہے دوسرے معبود یعنی خبات و شیاطین وغیرہ تو وہ جس طرح اپنے پرستاروں سے اعلان برأت کریں گے اور ان کے پرستار جس طرح ان پر لعنت کریں گے اس کی تفصیلات مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں ان سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن ان کا کچھ نافع ہونا تو درکنار سب سے زیادہ بدتر دشمن اپنے پرستاروں کے وہی ہوں گے۔ سورة قصص کی آیات 64-62 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔