Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 4

  1. قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿4﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اَرَءَيْتُمْبھلا تم دیکھو
    3. مَّا تَدْعُوْنَجن کو تم بلاتے ہو
    4. مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    5. اَرُوْنِيْدکھاؤ مجھے
    6. مَاذَا خَلَقُوْاکیا انہوں نے پیدا کیا
    7. مِنَ الْاَرْضِزمین سے
    8. اَمْ لَهُمْیا ان کے لئے
    9. شِرْكٌکچھ ساجھا
    10. فِي السَّمٰوٰتِ ۭآسمانوں میں
    11. اِيْتُوْنِيْلے آؤ میرے پاس
    12. بِكِتٰبٍکوئی کتاب
    13. مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآاس سے پہلے
    14. اَوْ اَثٰرَةٍیا آثار
    15. مِّنْ عِلْمٍعلم سے، کی
    16. اِنْاگر
    17. كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَتم ہو سچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہو کہ کبھی تم نے غور بھی کیا ان چیزوں پر جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ! مجھے دکھائو کہ زمین کی چیزوں میں سے انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے یا ان کا آسمانوں میں کون ساجھا ہے ! میرے سامنے اس سے پہلے کئی کوئی کتاب پیش کرو یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل اریتم ماتدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ایتونی بکتب من قبل ھذآ او اثرۃ من علیم ان کنتم صدقین 4 شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے یہ ان لوگوں کے اغراض کے اصل سبب پر ضرب لگائی ہے کہ ان کا اعتماد چونکہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر ہے اس وجہ سے یہ قرآن کے انداز کی کوئی پروا نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اول تو قیامت محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر اس کی کچھ حقیقت ہے بھی تو ہم جن معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں وہ ہم کو ہر خطرے سے بچائیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہ کہ تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پکارتے ہو کبھی ان پر غور بھی کیا ہے کہ ان کی کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ محض تمہارے ذہن ہی کی ایجاد ہیں ! اگر تم ان کی کچھ حقیقت سمجھتے ہو تو ذرا مجھے بھی دکھائو کہ انہوں نے زمینی اس کی چیزوں میں سے کیا چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے ! مطلب یہ ہے کہ خدا کے شریک بننے کے حق دار تو صرف اسی شکل میں وہ ہو سکتے ہیں جب آسمان و زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہو۔ اگر اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے تو آخر ان کو اس خدا کے حقوق میں شریک کرنے کے کیا معنی جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خالق ہے۔ وہ خالق ہو کر کس طرح گوارا کرے گا کہ اس کی پیدا کی ہوئی دنیا کے مالک دوسرے بن بیٹھیں ! اور تم نے یہ کس طرح جائز سمجھا کہ اس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو اس کی حکومت اور اس کے حقوق میں شریک بنا دو ! یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ اس وجہ سے اس دلیل کی بنیاد ایک ایسی حقیقت پر ہے جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھی۔ ایتونی بکتب من قبل ھذآ واثرۃ من علم ان کنتم صدقین اشارۃ اس روایت کو کہتے ہیں جو سلف سے منقول ہوتی چلی آرہی ہو۔ الاثارۃ البقیۃ من العلم توثر وحم علی اثارۃ من العلم ای بقیۃ منہ یاثر ونھا من الاولین (اقرب الموارد) اس کے ساتھ من علم کی قید اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اس روایت کی بنیاد محض و ہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔ خدا کی گواہی کے معلوم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ یعنی اگر تم مدعی ہو کہ خدا نے تمہارے معبودوں کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے تو اپنے اس دعوے کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یا تو اس قرآن سے پہلے کی کوئی کتاب پیش کردیا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد وہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں ؟ اس باب میں اصلی گواہی خود خدا ہی کی ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنا شریک کسی کو بنایا ہے یا نہیں اور بنایا ہے تو کس کو ؟ خدا کی گواہی کو جاننے کا واحد ذریعہ اس کی نازل کردہ کتابیں ہیں یا وہ روایات و آثار جو اس کے نبیوں اور رسولوں سے صحیح طور پر سلف سے خلف کو منتقل ہوئے۔ فرمایا کہ اس طرح کی کوئی چیز ہو تو اس کو پیش کرو محض و ہم کی بنیاد پر ایک ہوائی قلعہ تعمیر کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کرو۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ علم یا تو اس کی کتابوں کے ذریعہ سے خلق کو منتقل ہوا ہے مثلاً تورات و انجیل وغیرہ کے ذریعہ سے یا روایات و آثار کے ذریعہ سے، مثلاً حضرت ابراہیم ؑ اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات بعد والوں کو روایات ہی کے ذریعہ سے پہنچیں ان ذرائع سے جو علم منتقل ہوا اس میں کہیں شرک کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں رہے۔ تورات، انجیل اور دوسرے صحیفوں میں اگرچہ بہت سی تحریفات ہوچکی ہیں تاہم ان کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق جو روایات، تورات، انجیل یا دوسرے صحیفوں میں نقل ہوئی ہیں ان میں بھی شرک کا کوئی جرثومہ نہیں ہے۔ مشرکین عرب اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن قرآن کے بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے کہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کی بنیاد کسی شرعی یا عقلی دلیل پر تھی۔ آخر تک وہ یہی کہتے رہے کہ جس طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اسی پر ہم چلتے رہیں گے، اس سے بحث نہیں کہ انہوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا۔