تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 14
اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿14﴾
- اَفَمَنْپس کیا جو
- كَانَہے
- عَلٰي بَيِّنَةٍروشن (راستہ) پر
- مِّنْ رَّبِّهٖاپنے رب سے، کے
- كَمَنْاس کی طرح
- زُيِّنَآراستہ دکھائے گئے
- لَهٗاس کو
- سُوْٓءُبُرے
- عَمَلِهٖاس کے عمل
- وَاتَّبَعُوْٓااور انہوں نے پیروی کی
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کے مانند ہوجائیں گے جن کی بد عملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افمن کان علی بتینۃ من ربہ کمن زین لہ سورء عملہ واتبعوآ اھرآء ھم 14
اہل ایمان کے حسن انجام پر عقل و فطرت کو گواہی
اوپر کی آیت میں ان کے دنیوی انجام کی طرف اشارہ تھا اور اس کی دلیل تاریخ کی مثالوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ ان کے اخروی انجام کی طرف اشارہ ہے اور اس پر انسان کی عقل و فطرت کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں اور اس روشنی میں وہ چلتے ہیں اور وہ لوگ جن کی نگاہوں میں ان کی بدعملی کھیادی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ بات عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے اور اس کا بنانے والا نعوذ باللہ ایک کھلنڈرا ہے !
لفظ بینۃ پر سورة یونس میں مفصل بحث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حجت قاطع خود انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور اس کی مزید تائید اپنی وحی کی روشنی سے کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کے باطن کو جیسا کہ سورة نور کی تفسیر میں وضاحت ہوچکی ہے۔ نور علی نور بنا دیتی ہے جس کی جگمگاہٹ لازماً اس کی ظاہری زندگی میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ برعکس ای کے جو شخص اپنی فطرت کے چراغ کو گل کردیتا ہے وہ وحی کے نور سے بھی محروم رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن دونوں ہی تاریک ہوتا ہے۔ طملب یہ ہے کہ جن کے ظاہر اور باطن دونوں میں اتنا عظیم تفاوت ہے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں کس طرح ہو سکتے ہیں !
اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اہل ایمان کے ذکر میں تو صرف ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کے ظاہر کا ذکر نہیں کیا ہے اور اہل کفر کے ذکر میں ان کے ظاہر کا حوالہ دیا ہے، ان کے باطن کو نظر انداز کردیا ہے۔ آپ تقابل کے اس اصول کی روشنی میں جس کی مثالیں ہم دیتے آ رہے ہیں، اس خلا کو بھر لیجیے تب اس آیت کی بلاغت واضح ہوگی۔
آیت میں من کے لئے ضمیریں اور فعل واحد اور جمع دونوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد جمع، مذکر و مئونث، سب میں مشترک ہے۔