تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 13
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ﴿13﴾
- وَكَاَيِّنْاور بہت سی
- مِّنْ قَرْيَةٍبستیاں
- هِىَ اَشَدُّوہ بہت ہی سخت
- قُوَّةًقوت میں
- مِّنْ قَرْيَتِكَآپ کی بستی سے
- الَّتِيْٓوہ جس
- اَخْرَجَتْكَ ۚآپ کو نکال دیا
- اَهْلَكْنٰهُمْہم نے ہلاک کردیا انہیں
- فَلَاتو نہ
- نَاصِرَکوئی مدد کرنے والا
- لَهُمْان کے لئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں جس نے تم کو نکالا ہے۔ ہم نے ان کو ہلاک کر چھوڑا پس کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وکاین من قریۃ ھی اشدقوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلانا صرالھم 13
یعنی کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج قریش بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے، جب انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کرسکتا ہے ! فرمایا کہ کتنی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں اس سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ نے ان کو تباہ کردیا اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ یہ عاد ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں اور قریش کو جن کی شوکت و عظمت کا پورا اعتراف تھا۔ فلا ناصر لھم میں ان کی اس دنیوی جمعیت کی نصرت کی بھی نفی ہے جس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا اور ان مزعمومہ شرکاء کی نصرت کی بھی نفی ہے جن کو وہ خدا کے مقابل میں اپنی سپر سمجھے ہوئے تھے۔