تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 16
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿16﴾
- وَمِنْهُمْاور ان میں سے
- مَّنْ يَّسْتَمِعُجو سنتا ہے
- اِلَيْكَ ۚآپ کی طرف
- حَتّىٰٓیہاں تک کہ
- اِذَا خَرَجُوْاجب وہ نکلتے ہیں
- مِنْ عِنْدِكَآپ کے پاس سے
- قَالُوْاوہ کہتے ہیں
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کو جنہیں
- اُوْتُوا الْعِلْمَعلم دیا گیا (اہل علم)
- مَاذَاکیا
- قَالَاس نے کہا
- اٰنِفًا ۣابھی
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- الَّذِيْنَوہ جو
- طَبَعَمہر کردی
- اللّٰهُاللہ نے
- عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
- وَاتَّبَعُوْٓااور انہوں نے پیروی کی
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو تمہاری طرف کان تو لگاتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا بات فرمائی ! یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی اور انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2 آگے آیات 38-16 کا مضمون
آگے منافقین کے رویہ پر تبصرہ ہے اور یہی مضمون سورة کے آخر تک چلا گیا ہے۔ منافقین کا ذکر یہاں بھی بعینہ اسی تقریب سے آیا ہے جس تقریب سے سورة نساء، سورة مائدہ، سورة انفال اور سورة برأت وغیرہ میں زگر چکا ہے۔ جب مسلمانوں کو ایک عظیم مہم کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا گیا تو ضروری ہوا کہ ان کے اندر کے اس گروہ کو بےنقاب کردیا جائے جو مال آستین بن کر چھپا ہوا تھا اور آگے کے مراحل میں جس کی کمزوریاں اور ریشہ دوانیاں مسلمانوں کے لئے خطرہ بن سکتی تھیں۔ یہ مضمون تین حصوں میں تقسیم ہے۔
پہلے آنحضرت ﷺ کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو تمہاری بات سنتا تو ہے لیکن سمجھتا کچھ بھی نہیں۔ یہ لوگ تمہاری باتوں پر یقین کرنے کے لئے کسی نشانی عذاب کے منتظر ہیں ان کو پتہ نہیں ہے کہ رسول کی بعثت ان لوگوں کے لئے عذاب کا دیباچہ ہوتی ہے۔ جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔
اس کے بعد ان کی بزدلی سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ زبان سے تو یہ جہاد کے لئے بڑے ولولہ کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اب جب کہ نہایں واضح الفاظ میں اس کا حکم دے دیا گیا تو خوف سے ان کے اوپر موت کی غشی طاری ہو رہی ہے۔ یہ لوگ درحقیقت دین سے منہ موڑ چکے ہیں اور دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اب آزمائشوں کے ذریعہ سے وہ ان کے دلوں کے کھوٹ اور نفاق کو ظاہر کر کے رہے گا۔
آخر میں ابتدائے سورة کے مضمون کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کو بالعموم اور منافقین کو بالخصوص آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کا سہارا ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرو جن کی تباہی مقدر ہوچکی ہے۔ اب ان لوگوں کے ساتھ سمجھوتے کی راہیں سونچنے کی جگہ عزم و حوصلہ کے ساتھ دین کو سربلند کرنے کے لئے اٹھو۔ اللہ تم کو سرفرازی بخشے گا۔ اگر تم دنیا کی محبت میں پھنس کر اللہ سے منہ موڑ لو گے تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لائے گا جو تمہاری طرح بزدل اور منافق نہیں ہوں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا الذین اوتوا العلم ماذا قال انف قف اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوا ھوآھم 16
منفاقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ
یہ نبی ﷺ کو ان لوگوں سے خبردار کیا ہے جو بظاہر تھے تو مسلمانوں کے ساتھ لیکن ان کی ہمدردیاں تمام تر اسلام کے مخالفین کے ساتھ تھیں ان لوگوں سے خبردار کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو جس مہم کے لئے تیار ہونے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس کو سب سے زیادہ نقصان اسی طرح کے لوگوں سے پہنچ سکتا تھا۔ فرمایا کہ انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہاری بات سننے کے لئے کان تو لگاتا ہے لیکن سنتا سمجھتا کچھ بھی نہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب یہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو مجلس کے دوسرے اصحاب علم سے پوچھتے ہیں کہ بھائی، ابھی ابھی انہوں نے کیا فرمایا !
منھم کی ضمیر کا مرجع وہ گروہ ہے جس کا ذکر اوپر کرھوا مآ انزل اللہ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی ایک گروہ تو تمہارے پاس اپنی بیزاری کی شدت کے باعث پھٹکتا ہی نہیں اور انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہایر پاس آتا تو ہے لیکن سننے مسجھنے کے لئے نہیں بلکہ بالکل منفقانہ آتا ہے۔
ماذا قال انفاً کے سوال سے ایک تاثر تو وہ لوگوں کو یہ دینا چاہتے کہ جہاں تک بات سننے کا تعلق ہے وہ تو ہم نے بھی سنی اور اس پر عمل کرنے کے لئے بھی ہم جی جان سے حاضر ہیں لیکن ابھی تو بات ہی ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ فرمان کیا چاہتے ہیں ؟ اس طرح وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے۔
دوسرا تاثر یہ دنیا چاہتے کہ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ بےسوچے سمجھے ان پر آمنا و صدقنا کہہ دیا جائے بلکہ ان پر اچھی طرح غور کرنے اور ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گویا در پردہ وہ ان مسلمانوں کی جو آنحضرت ﷺ کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہتے، اپنے اس فقرے سے دل شکنی کرتے کہ تم لوگ محض سادہ لوحی کے سبب سے ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کردیتے ہو، ہم تو ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں لیکن ان کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ کسی کی عمدہ سے عمدہ بات کو مشتبہ بنا دینے کے لئے ایک نہایت کار گر طریقہ ہے۔ اسی مقصد سے یہ منافقین بعض اوقات یہ بھی کرتے کہ جب کوئی سورة نازل ہوتی اور آنحضرت ﷺ اس کو سناتے تو یہ مجلس سے اٹھنے کے بعد طنزیہ انداز میں یہ سوال کرتے کہ بھئی ! بتائو اس سورة سے کس کس کا ایمان تازہ ہوا ہے ! سورة توبہ میں ان کی اس شرارت کا ذکر یوں آیا ہے۔
واذا ما انزلت سورة فمنھم من یقول انکم زادتہ ھذہ ایماناً فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانا وھم یستبشرون واما الذین فی قلوبھم مومن فزادتھم رجا الی رجیسھم وما نوا وھم کافرون (التوبۃ 125-124)
اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ان میں بعض یہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کس کس کا ایمان اس نے تازہ کیا ہے ! تو جو ایمان لائے ان کے ایمان کو تو اس نے زیادہ کیا اور وہ اس سے بشارت حال کرتے ہیں رہے وہ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے ان کی ناپاکی پر مزید ناپاکی کا اضافہ کیا اور وہ کفر ہی کے حال میں مرے۔
”اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوآ اھوآء ھم فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ یہ اوپر کی آیت 14 کمن زین لہ سوآء عملہ واتبعوآ ھوآء ھم کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی بد عملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور یہ اپنی خواہشوں کے پیرو بن گئے ہیں اس وجہ سے اب یہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لوگوں کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے آپ کو اس نور بصیرت سے محروم کرلیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمایا ہے اس وجہ سے وہ وحی کے نور سے محروم ہی رہتے ہیں اور ان کی بدعملی کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر دی جاتی ہے۔