Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 19

  1. فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ع﴿19﴾

    1. فَاعْلَمْسو جان لو
    2. اَنَّهٗیہ کہ
    3. لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
    4. اِلَّا اللّٰهُاللہ کے سوا
    5. وَاسْتَغْفِرْاور بخشش مانگیں آپ
    6. لِذَنْۢبِكَاپنے ذنب (اپنے اوپر لگائے گئے الزام) کیلئے
    7. وَلِلْمُؤْمِنِيْنَاور مومن مردوں کیلئے
    8. وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭاور مومن عورتوں
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. يَعْلَمُجانتا ہے
    11. مُتَقَلَّبَكُمْتمہارا چلنا پھرنا
    12. وَمَثْوٰىكُمْاور تمہارے رہنے سہنے کا مقام
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پس اپنی اور باایمان مردوں اور عورتوں کی خطائوں کی معافی مانگتے رہو اور اللہ جانتا ہے تمہاری آمد و شد کی جگہوں اور تمہارے ٹھکانوں کو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفرلذنبک واللمومنین والمومنت ط واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم 19 یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب فیصلہ کی گھڑی قریب آ لگی ہے تو تم اس بات کو اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتائوں کے بل پر اس سے نچنت ہیں ان کو اس وقت اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ خدا کے مقابل میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔ عذاب سے بچنے کے لئے تیاری کی ہدایت واستغفرلذبنک وللمومنین والمومنت یہ اس وقت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لئے نبی ﷺ کو تیاری کی ہدایت ہے کہ جو لوگ اس سے نچنت ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم اپنی کوتاہیوں اور مومنین و مومنات کی کوتاہیوں کی اپنے رب سے معافی مانگتے رہو۔ یہ خطاب نبی ﷺ سے امت کے وکیل اور شفیع کی حیثیت سے ہے۔ اللہ کا رسول اپنے تمام ساتھیوں کا، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، بوجھ اپنے سر پر اٹھائے ہوئے برابر اپنے لئے بھی اور ان کے لئے بھی استغفار کرتا رہتا ہے۔ اس عمل کو مزید اہتمام و سرگرمی کے ساتھ جاری رکھنے کی یہ ہدایت ہوئی تاکہ فیصلہ کی گھڑی جب ظاہر ہو تو اہل ایمان اس کی آفتوں سے محفوظ رہیں۔ یہاں نبی ﷺ کی طرف ذنب کی نسبتا ول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ براہ راست اس کے ذمہ دار کی حیثیت سے۔ پھر انبیاء (علیہم السلام) سے جو خصائیں صادر ہوتی ہیں وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اتباع حق میں اس کے متعین حدود سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس قسم کا تجاوز بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم متقلب مصدری معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور ظرف کے مفہوم میں بھی۔ ہم نے لفظ مثوی کی رعایت سے اس کو ظرف کے مفہوم میں لیا ہے۔ یعنی آمد و شد کی جگہ۔ یہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے کہ اگر تم برابر اپنے رب سے استغفار کرتے رہے تو جہاں کہیں بھی ہوگئے اللہ تعالیٰ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ وہ تمہاری آمد و شد کی جگہوں اور تمہارے ٹھکانوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم عذاب کی زد میں آجائو۔