تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 18
فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ﴿18﴾
- فَهَلْپس نہیں وہ
- يَنْظُرُوْنَمنتظر
- اِلَّا السَّاعَةَمگر قیامت
- اَنْ تَاْتِيَهُمْکہ آجائے ان پر
- بَغْتَةً ۚاچانک
- فَقَدْ جَآءَسو آچکی ہیں
- اَشْرَاطُهَا ۚاسکی علامات
- فَاَنّٰى لَهُمْتو کہاں ان کیلئے، کو
- اِذَاجب
- جَآءَتْهُمْوہ آگئی ان کے پاس
- ذِكْرٰىهُمْان کا نصیحت (قبول کرنا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ تو بس اسی بات کے منتظر ہیں کہ قایمت ان پر اچانک ادھمکے سمویا رکھیں کہ اس کی علامتیں ظاہر ہوچکی ہیں تو جب وہ گھڑی آ ہی جائے گی تو ان کے لئے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فھد ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ ج فقد جآء اشواطھا فانی لھم اذا جآء تھم ذکر ھم 18
جو عذاب کے منتظر ہیں ان کے لئے عذاب ہی ہے
یعنی اگر پیغمبر ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اب فیصلہ کی گھڑی ہی کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ہی ان کے سر پر آدھکے الساعۃ سے مراد قیامت بھی ہو سکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازمًا اس کی قوم پر آجاتا ہے۔ اللہ کے رسول ان دونوں ہی عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور ان دونوں میں نسبت مقدمہ اور تتمہ کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان لوگوں پر اپنا کرم فرمایا کہ خطرہ سے آگاہ کردینے کے لئے اپنا رسول بھیجا اور اپنی کتاب نازل فرمائی تاکہ جب وہ فیصلہ کی گھڑی آئے تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ جان کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ انجان بن رہے ہیں تو بنیں اللہ تو اپنا رسول آخری اتمام حجت کے لئے بھیجتا ہے۔ اگر اس کی تذکیر سے بھی ان کے کان نہ کھلے تو اب آخری چیز عذاب اور قیامت ہی ہے۔ اب یہ اسی سے دوچار ہوں گے اور جب یہ پیشگی آگاہی کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچانک ہی ان پر آجائے۔
عذاب کی علامتیں
فقد جآء اشرطھا یعنی عذاب کی گھڑی کا اتنظار ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی علامتیں اب نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں تفصیل سے ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ کن عذاب اس وقت تک کسی قوم پر نہیں بھیجتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا رسول نہ بھیج لے۔ یہ چیز واقع ہوچکی اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے کہ قوم کے لوگ رسول کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ اب تک قوم نے جو کچھ کیا ہے وہ مقتضی تو عذاب ہی کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ مزید مہلت دے رہا ہے کہ جس کو سنبھلنا ہو وہ چاہے تو اب بھی سنبھل جائے۔
اگر لوگ اب بھی نہ سنبھلے تو خدا کا قانون ہو کے رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو الگ کرے گا اور ان لوگوں کو تباہ کر دے گا جو سرکشی اور فساد میں اڑے رہ جائیں گے۔ اس انجام کے آثار آفاق اور انفس دونوں میں نمایاں ہو رہے ہیں اور آگے یہ مزید نمایاں ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کی عدالت اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کر دے گا اور یہ عدالت تمہید اور توطیہ ہوگی اس عدالت کبریٰ کی جو اس کے بعد آخرت میں قائم ہوگی۔ آخری رسول کی بعثت اور اس کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اب آگے اسی کا مرحلہ ہے۔ چناچہ بعض احادیث میں حضور نے بھی اس حقیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو اٹھا کر فرمایا کہ جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اسی طرح میری بعثت اور قیامت کے مابین بھی کوئی فاصل نہیں ہے۔
فانی لھم اذا جآء تھم ذکر ئھم جآئت کا فاعل الساعۃ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رسول پر ایمان لانے کے لئے فیصلہ کی گھڑی کے منتظر ہیں تو خواہ وہ فیصلہ کن عذاب کی شکل میں ظاہر ہو یا قیامت کی صورت میں، اس وقت ان کے لئے یاد دہانی اور نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا ! اس تذکیر سے فائدہ اٹھانے کا موقع تو اسی وقت تک ہے جب تک وہ پردے میں ہے۔ اس کے بےنقاب ہوجانے کے بعد تو کسی کے ایمان کی قیمت دو کوڑی کے برابر بھی نہ ہوگی۔