Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 31

  1. وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ﴿31﴾

    1. وَلَنَبْلُوَنَّكُمْاور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں
    2. حَتّٰىیہاں تک کہ
    3. نَعْلَمَہم جان لیں
    4. الْمُجٰهِدِيْنَمجاہدوں کو
    5. مِنْكُمْتم میں سے
    6. وَالصّٰبِرِيْنَ ۙاور صبر کرنے والے
    7. وَنَبْلُوَا۟اور ہم جانچ لیں
    8. اَخْبَارَكُمْتمہاری خبریں (حالات)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم لازماً تمہیں آزمائیں گے تاکہ تم میں سے جو مجاہد اور ثابت قدم ہیں ان کو ممیز کردیں اور تمہارے حالات کو جانچ لیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لئے امتحان ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین منکم والصبرین لا ونبلوا اخبار کم 31 یعنی مختلف قسم کے نرم و گرم حالات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ لازماً تمہارا امتحان کرے گا یہاں تک کہ وہ اچھی طرح پرکھ لے گا کہ تمہارے اندر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے کون ہیں اور کون محض زبان کے غازی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ تو نہیں ہے کہ وہ ہر منافق کی قشانی پر لکھ دے کہ یہ منافق ہے لیکن اس کی یہ سنت بالکل لازمی اور قطعی ہے کہ وہ مختلف امتحانتا کے ذریعہ سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے اور یہ بات چونکہ اس کی سنت کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس امتحان سے تمہیں بھی لازماً گزرنا پڑے گا اور وہ لوگ اپنے کو زیادہ دنوں تک چھپائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جو محض فریب کے جامے میں مسلمانوں کے اندر گھسے رہنا چاہتے ہیں۔ اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے اشارۃ یہ بات بھی نکلی کہ ان امتحانوں کا اصل مقصد تو مجاہیدن و صابرین کو ممیز کردینا ہے لیکن اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان لوگوں کے حالات بھی کسوٹی پر آجائیں گے جو محض فریب سے اپنے آپ کو اس زمان کے اندر گھسائے رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ و نبوا اخبارکم میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اخبار سے مراد ان کے حالات ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کو اس لئے بلوتا ہے کہ ان کے اندر جو مکھن ہے وہ نکل کر سامنے آجائے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ چھاچھ بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہ امتحان چونکہ سنت الٰہی کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس کا بیان لام تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اور علم یعلکم کے معنی یہاں پرکھنے اور امتیاز کرنے کے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔