Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 5

  1. سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ﴿5﴾

    1. سَيَهْدِيْهِمْوہ جلد ان کو ہدایت دے گا
    2. وَيُصْلِحُاور سنوارے گا
    3. بَالَهُمْان کا حال
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ ان کی رہنمائی منزل مقصود کی طرف کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سیدھیھم ویصلح بالھم ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم 6-5 اوپر والی آیت میں جو بات فلن یضل اعمالھم کے منفی اسولب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل جنت … سے ان کو ہمکنار کرے گا۔ لفظ ہدایت، قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ یصلح بالھم کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن میں مذکور ہوئی ہے بلکہ اس اجمال کے اندر ایک نہایت لطیف اشارہ ان فیروز مندیوں کی طرف بھی ہے جن کا ذکر فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین (السجدۃ :17) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ جنت کا وعدہ کوئی مبہم وعدہ نہیں ہے ویدخلھم الجنۃ یہ اسی ہدایت کی تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اس جنت کے باب میں فرمایا کہ عرفھا لھم اللہ نے اچھی طرح اس کی شناخت کرا دی ہے۔ اس تفریح کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جنت کا یہ وعدہ ایک مجمل و مبہم وعدہ ہے، کچھ نہیں معلوم کہ اس اسم کا مسمی کیا ہے ! اگر کوئی معاہدہ مبہم ہو، اس کی تفصیلات واضح نہ ہوں تو کمزور فریق برابر اندیشہ میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وقت پر اس کی کیا تفسیر و تاویل سامنے آئے۔ جنت کے وعدے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس قسم کے اندیشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ کیا ہے کہ اس کی ساری تفصیلات سے ان کو قرآن میں آگاہ کردیا ہے اور جو باتیں تعبیر وبیان کی گرفت میں نہیں آسکتی ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے تاکہ بندوں کو پورا اطمینان رہے کہ جس چیز کے عوض میں انہوں نے اپنی جانیں اپنے رب کے حوالہ کی ہیں وہ کوئی مبہم شے نہیں ہے بلکہ اس کی ساری تفصیلات طے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان میں سے ہر بات کے پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے بلکہ ان پر مزید اضافوں کا وعدہ فرمایا ہے جنت کی یہ تعریف یوں تو پورے قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے لیکن خاص طور پر اس سورة میں بھی اس کی تفصیل مذکور ہوئی ہے۔ ماحظہ ہو آیت 15 یہ وامر واضح رہے کہ عرفھا لھم کے الفاظ یہاں جنت کی صفت کے طور پر نہیں آئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو لفظ جنت کو نکرہ آتا تھا بلکہ ان کی حیثیت مستقل جملہ کی ہے اور اس کے مستقل جملہ ہونے ہی سے وہ مفہوم پیدا ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔