Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 4

  1. فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ﴿4﴾

    1. فَاِذَاپھر جب تم
    2. لَقِيْتُمُبھڑ جاؤ
    3. الَّذِيْنَجن لوگوں نے
    4. كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
    5. فَضَرْبَتو مارو
    6. الرِّقَابِ ۭگردنیں
    7. حَتّىٰٓیہاں تک کہ
    8. اِذَآجب
    9. اَثْخَنْتُمُوْهُمْخوب خونریزی کرچکو ان کی
    10. فَشُدُّواتو مضبوط کرلو
    11. الْوَثَاقَ ڎقید
    12. فَاِمَّا مَنًّۢاپس یا احسان کرو
    13. بَعْدُاس کے بعد
    14. وَاِمَّا فِدَآءًاور یا معاوضہ
    15. حَتّٰىیہاں تک
    16. تَضَعَرکھ دے
    17. الْحَرْبُلڑائی (لڑنے والے)
    18. اَوْزَارَهَاڃاپنے ہتھیار
    19. ذٰ۩لِكَ ړیہ
    20. وَلَوْ يَشَآءُ اللّٰهُاور اگر اللہ چاہتا
    21. لَانْتَصَرَضرور انتقام لیتا
    22. مِنْهُمْان سے
    23. وَلٰكِنْاور لیکن
    24. لِّيَبْلُوَا۟تاکہ آزمائے
    25. بَعْضَكُمْتم سے بعض کو
    26. بِبَعْضٍ ۭبعض سے
    27. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    28. قُتِلُوْامارے گئے
    29. فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کے راستے میں
    30. فَلَنْتو ہرگز نہ
    31. يُّضِلَّضائع کرے گا
    32. اَعْمَالَهُمْان کے عمل
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑائو یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چور کر دو تو ان کو مضبوط باندھ لو پھر یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ کام ہے تمہارے کرنے کا اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو یہ حکم اس لئے دیا کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے اللہ ان کے اعمال ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب ط حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد و اما فدآء حتی تضع العرب اوزادھا، ذلک ولویشآء اللہ لانتصرمنھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم 4 کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے۔ کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے یہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ کفار حق کے سہارے سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے اندر ریڑھ کی ہڈی گویا نہیں ہے تو جب جنگ میں ان سے مقابلہ ہو تو بےدریغ ان کی گردنیں مارو، اللہ نے ان کو تمہارے لئے شکار اور تمہاری تلواروں کے لئے ایک لقمہ تر بنا دیا ہے۔ یہی بات سورة انفال میں یوں فرمائی گئی ہے۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان (الانفال :12) (پس ان کی گردنوں پر ماروا اور ان کے پورا پور اور جوڑ جوڑ پر مارو) حتی اذا اثخنتموھم فشداوالوثاق اثخان کے معنی ہیں اچھی طرح خون ریزی کرنا اور وثاق بندھن کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اچھی طرح خون ریزی کر کے ان کے کسی بل نکال چکو تو جو بچ رہیں ان کو اچھی طرح بندھنوں میں باندھ لو۔ یہ تمہارے سامنے چوں نہیں کرسکیں گے۔ فاما منا بعدواما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا یعنی اس کے بعد اگر یہ تمہارے ہاتھ سے چھوئیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں، یا تو تمہایر احسان کا قلاوہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر اور تمہارا یہی معاملہ اس وقت تک ان کے ساتھ رہے جب تک ان کے اندر جنگ کا حوصلہ بالکل سرد نہ پڑجائے اور یہ تمہارے آگے ڈگ نہ ڈال دیں۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی : وقاتلوا ھم حتی لاتکون فتۃ ویکون الدین کلمہ للہ، (الانفال :39) (اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سر زمین سے فتنہ کا خاتمہ ہوجائے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہوجائے) بنی اسمعیل کے معاملے کی خاص نوعیت یہ امر واضح رہے کہ جہاں تک مشرکین عرب یا بالفظ دیگر مشرکین بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کردی اس وجہ سے دوسرے غیر مسلموں کی طرح ان کے لئے یہ رعایت نہیں تھی کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں یا ان کو غلام بنایا جاسکے۔ ان کے لئے صرف دو ہی راستے تھے یا اسلام قبول کریں یا تولار۔ اس کے وجوہ کی تفصیل سورة برأت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ کسی مسلمان قیدی کیف دیہ میں یا نقدو جنس کی شکل میں فدیہ لے کر یا احسانا ان کے کسی قیدی کو چھوڑا بھی جاسکتا تھا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے رویہ پر غور کرنے کے لئے امان کا طالب ہو تو اس کو امان بھی دی جاسکتی تھی لیکن بحیثیت جماعت ان کے ساتھ جنگ کی حالت اس وقت تک باقی رہنی تھی جب تک سر زمین حرم کفر و شرک کے ہر شائبہ سے پاک نہ ہوجائے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کے اندر جو اختلافات ہیں وہ بڑی الجھن میں ڈالنے والے ہیں۔ اس کی وضاحت سورة برأت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں معاملہ زیر بحث مشرکین بنی اسماعیل کا ہے، دوسرے غیر مسلموں کے مسئلہ پر یہاں بحث نہیں ہوئی ہے۔ امام ابوحنیفہ جو یہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں کے باب میں احسان اور فدیہ کی اجازت منسوخ ہوگئی، وہ صرف قتل کئے جاسکتے ہیں یا غالم بنائے جاسکتے ہیں تو اس کا اتنا حصہ صحیح ہے کہ مشرکین عرب کے ساتھ یہ رعایت مقوف تھی جو بالآخر فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی لیکن ان کا یہ فرمانا کہ وہ غلام بنائے جاسکتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ مشرکین عرب نہ غلام بنائے جاسکتے تھے نہ ذمی نہ معاہد امام شافعی کے نزدیک امام کو اختیار ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر، اس قسم کے قیدیوں کے ساتھ چار باتوں میں سے جو بات بھی مناسب خیال کرے، کرسکتا ہے چاہے قتل کرا دے، چاہے غلام بنا لے، چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دے، چاہے احساناً چھوڑ دے۔ ہمارے نزدیک امام شافعی کی یہ رائے عام غیر مسلم قیدیوں کے حد تک تو صحیح ہے لیکن مشرکین عرب کے باب میں یہ کلیہ صحیح نہیں ہے۔ وہ ذمی یا غلام نہیں بنائے جاسکتے تھے۔ یہاں اس مسئلہ کی تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ تفصیل کے طالب ہماری کتاب ”اسلامی ریاست“ میں باب اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق“ کا مطالعہ کریں۔ ذلک ولو یشآء اللہ لانتصرمنھم لا ولکن لیبلوا ابعضکم ببعض ذلک ایک جملہ کا قائم مقام ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ یہ کام ہے جو تمہارے کرنے کا ہے۔ یا یہ کام ہے جس کے لئے کمر ہمت باندھو یا کام ہے جس کے لئے تمہیں ہدایت کی جاتی ہے۔ اس قسم کے اجمالی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تفصیل بھی سما جاتی ہے اور جملہ کے اندر زور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ جہاد کی مصلحت ولو یشآء اللہ …الآیۃ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے جنگ کا حکم جو دے رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان سے نمٹنے کے لئے تمہارا یا کسی کا محتاج ہے۔ وہ چاہتا تو خود ہی کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج کر ان کو ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چشم زدن میں اپنے کسی عذاب سے تباہ کردیا۔ اسی طرح اللہ ان کو بھی تباہ کردیتا لیکن اس نے تمہیں ان سے جنگ کا حکم اس لئے دیا کہ اس طرح تمہارا اور ان کا دونوں کا امتحان ہو۔ وہ اپنے باطل کی حمایت کے لئے جو جوش و جذبہ رکھتے ہیں وہ بھی سامنے آجائے اور تم اپنے حق کے لئے جو جذبہ فدویت و وفاداری رکھتے ہو وہ بھی بالکل ظاہر ہوجائے نیز یہ بھی معلوم ہوجائے کہ تمہارے اندر کتنے ہیں جو راستباز و وفار شعار ہیں اور کتنے ہیں جو محض منافقانہ اپنے مفادات کے لئے تمہاری صفوں میں آگھسے ہیں۔ ایک سنت الٰہی یہاں اس سنت الٰہی پر بھی نگاہ رہے کہ رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں رہا ہے کہ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوئی ہے تو رسول اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم ہوا ہے اور اس کے تمام مکذبین کو اللہ نے کسی ارضی یا سماوی عذاب سے تباہ کردیا ہے اور اگر رسول کے ساتھیوں کی تعداد بھی معتدبہ ہوئی ہے تو ان کو جاد کا حکم ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں اللہ نے ان کے دشمنوں سے انتقامل لیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ آپ سے پہلے بھی نبیوں اور رسولوں کو جہاد کرنا پڑا ہے۔ فرعون کے مقابل میں حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کی مدد اللہ تعالیٰ نے سمندر کے طوفان سے کی۔ پھر دری پار کرنے کے بعد ان کو متعدد چھوٹی بڑی جنگیں خود لڑنی پڑیں جن میں بنی اسرائیل کا اچھی طرح امتحان ہوگیا۔ وہ بیشتر امتحانوں میں ناکام رہے جس کی ان کو سزا بھگتنی پڑی۔ منافقین کی ایک گمان کی تردید والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم فرمایا کہ اس جہاد میں جو لوگ شہید ہوں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی رائیگاں نہیں کرے گا بلکہ اس قربانی کا بھرپور صلح ہان کو دے گا۔ فلن یضل اعمالھم کے الفاظ ان منافقین کے خیال کو سامنے رکھ کر ارشاد ہوئے ہیں جن کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا ہے۔ یہ لوگ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ہر وہ قربانی ان کے نزدیک خسارہ کے حکم میں تھی جس کا نفع ان کو نقد نقد حاصل نہ ہوجائے۔ یہ الفاظ انہی کے خیال پر ضرب لگانے کے لئے ارشاد ہوئے ہیں۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے باب میں یہ جو ارشدا ہوا ہے کہ ان کو مردہ نہ خیال کرو، وہ زندہ ہیں، وہ بھی اسی قسم کے لوگوں کی تردید میں ہے۔ والذین قتلوا میں مستقبل کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ یہ بشارت ان لوگوں پر بھی حاوی ہوجائے جو راہ حق میں اس سے پہلے قتلے ہوئے۔