Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 7

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ﴿7﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْٓاایمان لائے
    4. اِنْ تَنْصُرُوااگر تم مدد کروگے
    5. اللّٰهَاللہ کی
    6. يَنْصُرْكُمْوہ مدد کریگا تمہاری
    7. وَيُثَبِّتْاور جمادے گا
    8. اَقْدَامَكُمْتمہارے قدم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم اچھی طرح جمائے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم، والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم ذلک بانھم کھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم 9-7 نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا دیا تو اس کے بعد اس کی شامیں ظاہر ہوں گی۔ ان لوگوں کے لئے اس کی مدد نہیں نازل ہوتی جو گھروں میں بیٹھے بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے نازل ہوتی ہے جو اپنے آپ کو میدان میں ڈال دیتے ہیں پھر اس کی نصرت کا انتظار کرتے ہیں۔ والذین کفروا فتعسلھم، یہ کفارکا حشر بتایا کہ ان کے لئے خدا کی پھٹکار ہے اور ان کے تمام اعمال برباد اور ائیگاں ہو کر رہیں گے ان کو جو مہلت ملی وہ محض امحتان اور اتمام حجت کے لئے ملی اب اگر تم ان سے نمٹنے کے لئے اٹھ کھڑے ہو گے تو دیکھو گے کہ ان کی ساری کوششیں نابود ہوجائیں گی۔ تعسالھم لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اس کا استعمال اسی طرح معروف ہے۔ کفار کی نامرادی کا سبب ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم یہ سبب بتایا ہے اس بات کا کہ کیوں یہ اس قدر بودے بےثابت اور خدا کی لعنت کے مستحق بن گئے ہیں ؟ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اس چیز سے نفرت کی جو ان کی ہدیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنی بدعتوں اور ضلالتوں کے ساتھ چمٹے رہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے وہ اعمال بھی خدا نے رائیگاں کردیئے جو انہوں نے دین کے کام سمجھ کر کئے۔ یہ ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو تھے تو نیکی کے لیکن ان کے شرک کے سبب سے وہ بالکل لا حاصل ہو کے رہ گئے۔ اس طرح کے کاموں میں سے بعض کا قرآن نے سورة برأت میں حوالہ بھی دیا ہے۔ مثلاً حرم کا اہتمام و انتظام اور حجاج کی خدمت مشرکین کو اپنی ان خدمات پر بڑا ناز تھا۔ لیکن یہ تمام دنی داریاں خدا کی میزان میں بالکل بےوزن ثابت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول صرف وہی اعمال ہوتے ہیں جو اس کے شرائط پر انجام دیئے جائیں وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کردیا جائے وہ ممنون ہو کر اس کو قبول کرلے۔