Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 49. Al-Hujuraat · Ayah 16

  1. قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿16﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اَتُعَلِّمُوْنَکیا تم جتلاتے ہو
    3. اللّٰهَاللہ کو
    4. بِدِيْنِكُمْ ۭاپنا دین
    5. وَاللّٰهُ يَعْلَمُاور اللہ جانتا ہے
    6. مَاجو
    7. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    8. وَمَااور جو
    9. فِي الْاَرْضِ ۭزمین میں
    10. وَاللّٰهُاور اللہ
    11. بِكُلِّ شَيْءٍہر ایک چیز کا
    12. عَلِيْمٌجاننے و الا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو ، کیا تم اپنے دین سے اللہ کو آگاہ کر رہ ہو ! درآنحالیکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل اتعلمون اللہ بدینکم واللہ یعلم ما فی السموت و ما فی الارض ط واللہ بکل شیء علیم 16 یعنی یہ لوگ بڑے سرپرستانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں تو ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہوا اگر یہ لوگ اللہ کو آگاہ کر ہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ وہ فعلاً بھی ہر چیز کو جانتا ہے اور صفتاً بھی ہر بات سے باخبر ہے۔ کوئی چیز بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اپنے ایمان پر ناز ہے تو اس پر وہ کسی ایسے کے سامنے ناز کریں جو ان کے دین و ایمان سے بیخبر ہو۔ اس کے سامنے ناز کرنے سے کیا فائدہ جو اس کائنات کے ہر سرو علانیہ سے اچھی طرح آگا ہ ہے۔ کیا جو ہر چیز سے آگاہ ہے وہ ان کے ایمان کے طول و عرض سے آگاہ نہیں ہوگا۔