تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 49. Al-Hujuraat · Ayah 17
یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿17﴾
- يَمُنُّوْنَوہ احسان رکھتے ہیں
- عَلَيْكَآپ پر
- اَنْ اَسْلَمُوْا ۭکہ وہ اسلام لائے
- قُلْفرمادیں
- لَّا تَمُنُّوْانہ احسان رکھو تم
- عَلَيَّمجھ پر
- اِسْلَامَكُمْ ۚاپنے اسلام لانے کا
- بَلِ اللّٰهُبلکہ اللہ
- يَمُنُّاحسان رکھتا ہے
- عَلَيْكُمْتم پر
- اَنْ هَدٰىكُمْکہ اس نے ہدایت دی تمہیں
- لِلْاِيْمَانِایمان کی طرف
- اِنْاگر
- كُنْتُمْتم ہو
- صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام لائے کہہ دو کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی توفیق بخشی، اگر تم سچے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یمنون علیک ان اسلموا قل لاتمنوا علی اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھدلکم للایمان ان کنتم صدقین 17
مدعیان احسان کو جواب
ان لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھولنے کے بعد ان کے دعوائے اسلام کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ لوگ تمہارے اوپر (خطاب نبی ﷺ سے ہے) احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے۔ یعنی ان کا زعم یہ ہے کہ اسلام لا کر انہوں نے پیغمبر کی عزت بڑھائی اور اسلام کو قوت و شوکت بخشی اس وجہ سے وہ پیغمبر اور اسلام دونوں کے محسن ہیں اور پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس احسان کا احترام کریں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتائو۔ اگر تم فی الواقع اپنے دعوے میں سچے ہو تو تمہارا احسان میرے اوپر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان تمہارے اوپر ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی توفیق بخشی۔ ان کنتم صدقین کے الفاظ پر نظر رہے، یعنی اول تو تمہارا ایمان و اسلام کا دعویٰ ہی محض لاف زنی ہے اور اگر تمہاری بات میں کچھ صداقت ہے تو تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے تمہیں اس کی توفیق بخشی۔ ہدایت کے بعدل، کا صلہدلیل ہے کہ یہ لفظ یہاں توفیق کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہیں۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کی کوئی چھوٹی یا بڑی خدمت کر کے کوئی شخص نہ اللہ و رسول پر کوئی احسان کرتا نہ دین پر بلکہ وہ خود اپنے اوپر احسان کرتا ہے کہ اپنی عاقبت سنوارتا ہے۔ احسان، درحقیقت، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ وہ اس کو اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے کر اس کے لئے ابدی فیروز مندی کی راہ کھولتا ہے۔ یہاں اس بات پر بھی نظر رہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ جواب نہیں دلوایا گیا کہ تم لوگ اپنے ایمان و اسلام کا احسان مجھے نہ جتائو، بلکہ میرا احسان تمہارے اوپر ہے کہ میں نے تمہارے سامنے ہدایت کی راہ کھولی۔ اگر یہ جواب دلوایا جاتا تو اس کا ایک محل تھا، لیکن نبی جو کچھ کرسکتا ہے وہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کر دے لیکن لوگوں کو ہدایت کی توفیق دینا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس کی توفیق بخشنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور معاملہ کا سارا انحصار اسی توفیق بخشی پر ہے۔