Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 24

Tafseer
  1. قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ﴿24﴾

    1. قَالُوْاانہوں نے کہا
    2. يٰمُوْسٰٓىاے موسیٰ
    3. اِنَّابیشک ہم
    4. لَنْ نَّدْخُلَهَآہرگز وہاں داخل نہ ہوں گے
    5. اَبَدًاکبھی بھی
    6. مَّا دَامُوْاجب تک وہ ہیں
    7. فِيْهَااس میں
    8. فَاذْهَبْسو تو جا
    9. اَنْتَتو
    10. وَرَبُّكَاور تیرا رب
    11. فَقَاتِلَآتم دونوں لڑو
    12. اِنَّاہم
    13. ھٰهُنَایہیں
    14. قٰعِدُوْنَبیٹھے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے اے موسیٰ ، ہم اس میں ہرگز نہیں داخل ہونے کے جب تک وہ اس میں موجود ہیں تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔ یہ بنی اسرائیل کی طرف سے آخری جواب تھا۔ تورات میں یہ جواب ان لفظوں میں تو موجود نہیں ہے لیکن بنی اسرائیل کے گریہ و ماتم کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کا واویلا : " تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہیں رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے " (گنتی 14:، 1۔ 3)۔ ظاہر ہے کہ جن کی بزدلی اور دہشت زدگی کا یہ عالم ہو ان کے لیے حضرت موسیٰ اور یوشع و کالب کی یہ یقین دہانی کہ " خدا ہمارے ساتھ ہے، تم ان کا خوف نہ کرو " بالکل بےسود تھی۔ انہوں نے یقیناً اس یقین دہانی کے جواب میں یہی کہا ہوگا کہ اگر خداوند ساتھ ہے تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھتے ہیں۔
Tadabbur-e-Quran - 5 : 24