تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 1
قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ﴿1﴾
- قٓقاف
- وَالْقُرْاٰنِقسم ہے قرآن کی
- الْمَجِيْدِمجید
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ سورة ق ہے قسم ہے باعظمت قرآن کی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ق القرآن المجید -1
قرآن اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے۔
ق اس سورة کا نام ہے۔ مبتداء جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہاں بھی محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سورة ق ہے۔
مجید کے معنی بزرگ، برتر اور باعظمت کے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے طور پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اس کی عظمت و جلالت سے متاثر ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اس کا دل بالکل سیاہ ہوچکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہوجاتے۔
والقرآن المجید، جملہ قسمیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس باعظمت و برتر کتاب کی قسم کھائی ہے اور قسم سے متعلق ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح کی تمام قسمیں بطور شہادت ہیں۔ یعنی قسم مقسم علیہ پر دلیل کی حیثیت سے کھائی جاتی ہے۔ یہ قسم بھی مقسم علیہ پر دلیل ہے، اگرچہ وہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ ان مواقع میں حذف کردیا جاتا ہے جہاں کلام کا سیاق وسباق اس کو واضح کردینے کے لئے کافی ہو۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة ص میں موجود ہے۔ فرمایا ہے : ص والقرآن ذی الذکرہ بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق (2-1) (اس کی وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد پنجم، صفحات 510-509) تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قرآن کی عظمت و جلالت کی قسم ان لوگوں کی تردید میں کھائی گئی ہے جو اس کو شاعری، کہانت، سحر یا القائے شیطانی کے قسم کی چیز قرار دیتے تھے۔ قرآن کی عظمت، شہادت میں پیش کر کے، ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ یہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کا منبع یہ سفلی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے جس کا ذریعہ جبرئیل امین ہیں اور جس کا منبع لوح محفوظ ہے۔ بعینیہ اسی قسم کے سیاق وسباق کے ساتھ سورة بروج میں فرمایا ہے۔
بل ھو قرآن مجید، فی لوح محفوظ (22-21)
بلکہ یہ باعظمت قرآن ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ میں ہے۔
یہی بات سورة تکریر میں یوں فرمائی گئی ہے۔
انہ لقول رسول کریم، ذی قوۃ عند ذی العرش مکین، مطای ثم امین ط وما صاحبکم بمجنون، ولقد راہ بالافق المسین، وما ھو علی الغیب بضنین، وما ھو بقول شیطن رجیم، فاین تذھبون ان ھو الا ذکر للعلمین (27-19)
یہ ایک باعزت رسول کا اتارا ہوا کلام ہے وہ قوت والا اور عرش کے مالک کے نزدیک با رسوخ ہے۔ وہ مطاع اور مزید برآں اماندتار ہے اور تمہارا ساتھی کوئی دیوانہ نہیں ہے اور اس نے اس کو بالکل کھلے افق میں دیکھنا ہے۔ اور وہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے اور یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے، تو کہاں بھٹکے جاتے ہو ! یہ تو دنیا والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔
قرآن کی عظمت کے اسی پہلو کی طرف لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ (حم السجدہ :42) (باطل نہ) اس کے آگے سے اس میں آسکتا اور نہ اس کے پیچھے سے) اور لایمسہ الا المطھرون (الواقعۃ :79) (اور اس کو صرف پاکیزہ ہی لوگ چھوتے ہیں) اور اس مضمون کی دوسری آیتیں بھی اشارہ کر رہی ہیں۔ سورة شعراء کے آخر میں قرآن کو کہانت اور شاعری کی تہمت سے بری کرنے کے جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان کی وضاحت سورة کی تفسیر میں ہوچکی ہے، خاص طور پر وما تنزلت بہ الشطین، وما ینبغی لھم وما یستطیعون، (الشعرآء، 211-21) کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے انذار قیامت کو یہ بہانہ بنا کر نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہے ان کی تردید کے لئے قرآن کی معجزانہ بلاغت اور اس کی لاہوتی حکمت ہی کافی ہے۔ نادان ہیں وہ جو اس کو کسی جن یا شیطان کا کلام سمجھتے ہیں۔ یہ جن یا شیطان کا کلام نہیں بلکہ خدائے عزیو حکیم کا اتارا ہوا کلام ہے۔
جو ہر جام جم از کان جہان دگراست