تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 2
بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ﴿2﴾
- بَلْبلکہ
- عَجِبُوْٓاانہوں نے تعجب کیا
- اَنْ جَآءَهُمْکہ ان کے پاس آیا
- مُّنْذِرٌایک ڈر سنانے والا
- مِّنْهُمْان میں سے
- فَقَالَتو کہا
- الْكٰفِرُوْنَکافروں
- ھٰذَا شَيْءٌیہ بات
- عَجِيْبٌعجیب
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی کے اندر سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات ہے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب ءاذا متنا وکنا تراباً ، ذلک رجع بعید (3-2)
مخالفین کی مخالفت کی اصل ملت
یہاں بل اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لئے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس بل کے مضمران کھولیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لئے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے محرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لئے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کرلینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑک گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے ! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے ! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لئے تیار نہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کرسکیں اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔
اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لئے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔
ان اعتراضوں کے جواب یچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیئے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لئے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انہوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔