Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 17

  1. اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ﴿17﴾

    1. اِذْ يَتَلَقَّىجب لیتے (لکھ لیتے) ہیں
    2. الْمُتَلَقِّيٰنِدولینے (لکھ لینے) والے
    3. عَنِ الْيَمِيْنِدائیں سے
    4. وَعَنِ الشِّمَالِاور بائیں سے
    5. قَعِيْدٌبیٹھا ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
دھیان رکھو جب کہ دو اخذ کرنے والے اخذ کرتے رہیت ہیں، ایک دائیں بیٹھا اور دوسرا بائیں بیٹھا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اذیتلقی الستلقٰین عن الیمین وعن الشمال قیعد، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (18-17) لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مزید اہتمام عن الیمین وعن الشمال تعید میں تالف کلام یوں ہے، عن الیمین قعیلا وعن الشمال قعید (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا) عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضیء ایجاز ایک جگہ لفظ قعید، محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لئے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ ہر شخص پر دو دو فرشتے مامور کر رکھے ہیں جنمیں سے ایک اس کے رہنے بیٹھا ہوتا ہے، دوسرا بائیں جونہی وہ کوئی لفظ بولتا ہے اپنے پاس ایک مستعد نگر ان اس کو نوٹ کرنے کے لئے حاضر پاتا ہے۔ یہاں اعمال کے نوٹ کئے جانے کا ذکر اگرچہ لفظوں میں نہیں ہے لیکن وہ علی اسبیل التغلیب اس میں داخل سمجھے جائیں گے، اس لئے کہ جب زبان سے نکلے ہوئے یہ لف کے نوٹ کئے جانے کے لئے یہ اہتمام ہے تو ہاتھ پائوں سے انجام دیئے ہوئے اعمال کے نوٹ کئے جانے کا اہتمام تو بدرجہ اولیٰ ہونا چاہئے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں فرشتوں میں تقسیم کار ہے۔ جو فرشتہ دائیں جانب مامور ہوتا ہے وہ نیک اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ شہادت کے معاملے میں چونکہ دو گواہوں کی گواہی دین میں معتبر مانی گئی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی دو دو فرشتے مامور فرمائے۔ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات قلب ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کستاری ہے کہ اس نے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا ہے۔ اتمام حجت کے لئے ایک اور اہتمام اس اہتمام کے علاوہ ایک اور اہتمام بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کا کررکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے ہاتھ پائوں اور کان آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے تمام اقوال و اعمال کی گواہی دیں گے ہم جو کچھ زبان سے بولتے ہیں اس کا سارا ریکارڈ ہمارے کان محفوظ کر رہے ہیں اور جو کچھ دیکھتے ہیں اس کی پوری فلم ہماری آنکھوں کی تحویل میں ہے۔ یہی حال ہمارے دوسرے اعضاء جو ارح کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کہتے یا کرتے ہیں سب خدا کے مامور کئے ہوئے پاسبانوں کے سامنے اور اسی کے بخشے ہوئے اعضاء وجوارح کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ پھر یہ خیال کرنا کتنی بڑی حماقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ایک قول و فعل کو کس طرح جان سکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا ! اذیتلقی المتلقین میں ربیت کے معروف قاعدے کے مطابق اذ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں چونکہ غافلوں کو ایک حقیقت نفس الامری کی یاد دہانی کی جا رہی ہے اس وجہ سے کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے گا جس سے مخاطب کو تنبہ ہو۔ یعنی دھیان رکھو، خیال رکھو میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ صاحب کشاف نے ایک دوسری شکل اختیار کی ہے لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔