تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 16
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴿16﴾
- وَلَقَدْاور تحقیق
- خَلَقْنَاہم نے پیدا کیا
- الْاِنْسَانَانسان
- وَنَعْلَمُاور ہم جانتے ہیں
- مَا تُوَسْوِسُجو وسوسے گزرتے ہیں
- بِهٖاس کے
- نَفْسُهٗ ښاس کا جی
- وَنَحْنُاور ہم
- اَقْرَبُبہت قریب
- اِلَيْهِاس کے
- مِنْسے
- حَبْلِ الْوَرِيْدِرگِ گردن (جان)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2 آگے آیات 35-16 کا مضمون
آگے کی آیات میں پہلے اس اہتمام کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے ظہور اور مجرمین کے حاضر کئے جانے کی تصویر کھینچی ہے۔ اس کے بعد مجرمین کے جہنم میں ڈالے جاین اور ان کے باہمی لعن طعن کا بیان ہے۔ پھر اس فضل و انعام کی تفصیل ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں پر فرمائے گا۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد خلقنا الانسان و نعلم ماتوسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید 16
اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے
قیامت کے باب میں جہاں نادانوں کو یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ انسان کے مرکھپ جانے اور زمین میں رل مل جانے کے بعد اس کے تمام اجزائے جسم کو فراہم کرنا اور از سر نو زندہ کر کے کھڑا کردینا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی بہتوں کو لاحق ہوتا ہے کہ ایک ایک شخص کے خلوت و جلوت کے تمام اقوال و افعال کا ریکارڈ کون رکھ سکتا ہے کہ ایک دن سب کا حساب کرنے بیٹھے اور ہر ایک کو جزاء و سزا دے۔ یہ دونوں شبہات بالکل قوام ہیں۔ اس وجہ سے اوپر آیت 4 میں اجمالی طور پر دونوں کا جواب دیا ہے۔ پھ رتفصیل کے ساتھ پہلے شبہ کی تردید فرمائی ہے۔ اب یہ دوسرے شب ہے سے تعرض فرمایا ہے اور دلائل سے اس کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اقوال و اعمال تو درکنار اس کے دل میں جو وسوسے خطور کرتے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خالق ہے، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے جوڑ جوڑ، بند بند کو استوار کیا ہے تو لازم ہے کہ وہ اس کے تمام پرزوں کے در و بست اور ان کے عمل سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ اسی حقیت کی طرف دوسرے الفاظ میں یوں توجہ دلائی ہے۔ الا یعلم من خلق (الملک : 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا۔) اگر خالق اپنی ملوق کی تمام جزئیات سے باخبر نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت اور اس کے بقاء کا اتنظام کس طرح کرے گا ؟
ونعن اقرب الیہ من حبل الورید ورید رگ جاں کو کہتے ہیں۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے جو غایت درجہ قرب کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ فرمایا کہ کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اگر وہ ہم کو نہیں دیکھ رہا ہے تو ہم اس سے دور ہیں۔ ہم ہر شخص کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ ہمارا علم اور ہماری قدرت ہر شخص کا ہر پہلو سے احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کا تمام ظاہر و باطن ہر لمحہ ہماری نگاہوں میں ہے۔