Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 19

  1. وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ﴿19﴾

    1. وَجَآءَتْاور آگئی
    2. سَكْرَةُ الْمَوْتِموت کی بیہوشی
    3. بِالْحَقِّ ۭحق کے ساتھ
    4. ذٰلِكَیہ
    5. مَا كُنْتَجس سے تو تھا
    6. مِنْهُاس سے
    7. تَحِيْدُبھاگتا (بدکتا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آپہنچی ! یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت ایک شدنی ہے وجآءت سکرۃ الموت بالحق ط ذلک ماکنت منہ تحید 19 حق سے مراد ہی قیامت ہے جس کی قرآن خبر دے رہا تھا اور جس کی تکذیب کا ذکر اوپر آیت 5 میں گزر چکا ہے چونکہ وہ ایک شدنی اور ایک اٹل حقیقت ہے، اس وجہ سے اس کو حق سے تعبیر فرمایا ہے۔ مضای کا صیغہ اس کی قطعیت کے اظہار کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو بہت دور نہ خیال کرو بلکہ ایک آئی ہوئی چیز سمجھو۔ جتنے دن زندگی کے باقی ہیں بس اتنی ہی دیر قیامت کے آنے میں ہے۔ جونہی موت کی بےہوشی طاری ہوئی قیامت گویا اس کے ساتھ ہی لگی کھڑی ہے۔ اس وقت صورت حال خود تمہیں بتا دے گی کہ جس چیز سے تم کتراتے رہے تھے بالآخر وہ آہی گی۔ قیامت ہر آدمی کی موت کے ساتھ لگی ہوئی ہے قیامت کی یہی حقیقت احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے۔ من مات فقد قامت قیامت ہ (جو مرا اس کی قیامت آگئی) اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد برزخ کی جو زندگی ہے وہ درحقیقت قیامت ہی کا دیباچہ ہے۔ موت کے ساتھ ہی عالم آخرت کے احوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان کو ایمان کی حقانیت اور اس کے اچھے انجام کی ہشادت مل جاتی ہے اور کفار کے سامنے اس انجام کے ظہور کا آغاز ہوجاتا ہے جس کی وہ دنیا کی زندگی میں تکذیب کرتے رہے تھے اس کے بعد کسی شک کی گنجائش کسی کے لئے بھی باقی نہیں رہ جاتی۔ قیامت کے باب میں اس کے منکروں کے ذہن کی صحیح تعبیر ذلک ماکنت منہ تحمید یہ بات زبان حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور قولاً بھی ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تم دیکھ لوگ گے کہ جس چیز سے تم کرتا تے رہے وہ بالآخر سر پر آہی دھمکی۔ حاد یعید کا صحیح مفہوم راستہ سے کرتا کر چلنا ہے۔ یہ ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے قیامت کے باب میں ان لوگوں کے رویے کی جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ قیامت سے بےپروا ہو کر زندگی گزار تے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ قیامت کے دلائل ان سے مخفی ہیں، اس کے آثار تو ہر قدم پر موجود ہیں لیکن جو لوگ سیدھی راہ نہیں اختیار کرنی چاہتے وہ ان سے کترا کر چلتے ہیں، لیکن اس وقت یہ کیا کریں گے جب وہ انکے سامنے آن کھڑی ہوگی۔