تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 25
مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ﴿25﴾
- مَّنَّاعٍمنع کرنے و الا
- لِّلْخَيْرِمال کے لئے
- مُعْتَدٍحد سے گزرنے والا
- مُّرِيْبِۨشبہات ڈالنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
خیر سے روکنے والے، حدود کو توڑنے والے، مبتلائے شک کو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مناع اللخیر معتد مریب الذی جعل مع اللہ الھا اخرفا لقیہ فی العذاب الشدید 26-25)
خدا کے حقوق کے منر لازماً بندوں کے حقوق کے بھی منکر ہوں گے
جو خدا کے حقوق کے منکر و معاند ہوں گے لازماً وہ اس کے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت بخیل و ممسک اور دوسروں کو ان سے روکنے والے ہوں گے اور ساتھ ہی وہ معتدی یعنی حدود سے تجاوز کرنے والے حقوق کو غصب کرنے والے بھی ہوں گے۔ لفظ خیر یوں تو تمام نیکیوں اور بھلائیوں کے لئے عام ہے لیکن انفاق کی نیکی کے لئے یہ معروف ہے جس کا تعلق بندوں سے ہے۔ لفظ مناع میں رکنے اور روکنے دونوں کا مفہوم موجود ہے۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف خود ہی بخیل بننے پر قانع نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی بخیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی بخیل کا راز فاش نہ ہو۔ مزید برآں اس طرح کے لوگ معتدی بھی ہوتے ہیں یہ صرف اتنے پر صبر نہیں کرتے کہ دوسروں کے جو حقوق ان کے ذمہ ہیں ان کو دبائے بیٹھے رہیں بلکہ تعدی کر کے یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ بھی ان کے پاس نہ رہنے پائے بلکہ اس کے مالک بھی یہی بن بیٹھیں۔ مریب کے معنی مبتلائے شک کے ہیں۔ یوں تو یہ لفظ عام ہے۔ توحید یا آخرت جس باب میں بھی شک ہو وہ اس کے مفہوم میں داخل ہے لیکن قرآن میں اس کا معروف اس استعمال اس شی کے لئے ہوا ہے جو قیامت کے بارے میں ہو، جو اس سورة میں موضوع بحث ہے، یہاں اس صفت کا ذکر ان تمام صفات کی اصل کی حیثیت سے ہوا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ قیامت کے باب میں شک ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو ناشکرا، معاند، بخیل اور تعدی کرنے والا بناتا ہے۔ چناچہ ان تمام بیماریوں کے ذکر کے بعد اس اصل بیماری کا پتہ بھی دے دیا جس سے یہ تمام بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
الذی جعل مع اللہ الھا اخر یہ آخر میں اسلوب بدل کر، خاص اہتمام کے ساتھ، شرک کا ذکر فرمایا، شرک تمام دین و اخلاق کا ہادم اور تمام فساد فی الارض کی جڑ ہے۔ شرک کے ساتھ قیامت کو کوئی مانے بھی تو یہ ماننا بالکل بےاثر ہو کے رہ جاتا ہے اگر آدمی اس وہم میں مبتلا ہو کہ فلاں خدا کا شریک یا اس کا ایسا چہیتا ہے کہ وہ جو بات چاہے خدا سے منوا سکتا ہے تو پھر اس کے لئے قیامت کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوا۔ وہ اپنے زعم میں اس کو راضی رکھ کے جو چاہے کرسکتا ہے اس کا ہاتھ پکڑنے والا کون بن سکتا ہے !
یہاں عربیت کے اس اسلوب پر بھی نظر رہے جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جب صفات کا ذکر حرف عطف کے بغیر ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ یہ تمام صفات موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی نگاہ میں رہے کہ یہاں صفات کے بیان میں ترتیب فروع سے اصول کی طرف ہے۔ ناشکری اور بخل سے آغاز کیا ہے، انکار قیامت اور شرک پو ختم کیا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ آدمی اگر قیامت کے باب میں مشتبہ اور شرک میں بتلا ہو تو اس کا کردار وہ بنتا ہے جو ان آیات میں بیان ہوا۔
فالقیہ فی العذاب الشدید یہ اسی اوپروالے القیا کی تاکید ہے۔ اوپر فرمایا کہ اس کہ جہنم میں جھونک دو۔ پھر اس کی صفات کا حوالہ دینے کے بعد مزید شدت و تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس کو جہنم کے عذاب شدید میں جھونک دو جھنم کے متعلق یہ واضحت اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ اس کے سات دروازے اور متعدد طبقات ہوں گے۔ مذکورہ صفات و کردار کے لوگوں کے لئے اس کے عذاب شدید میں داخل کرنے کا حکم ہوگا۔