Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 24

  1. اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ﴿24﴾

    1. اَلْقِيَاتم دونوں ڈال دو
    2. فِيْ جَهَنَّمَجہنم میں
    3. كُلَّ كَفَّارٍہر ناشکرا
    4. عَنِيْدٍسرکش
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم جھونک دو ، جہنم میں ہر ناشکرے، معاند ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
القیافی جھنم کل کفار عنید 24 ایک سوال اور اس کا جواب القیامثنیٰ کا صیغہ ہے اس وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم کن دو فرشتوں کو دیا جائے گا۔ عام طور پر ارباب تاویل نے اس کا مخاطب انہی دو فرشتوں کو قرار دیا ہے جن کا ذکر اوپر سائق اور شہید کے الفاظ سے زگر چکا ہے۔ انہی کو حکم ہوگا کہ ہر ناشکرے معاند کو جہنم میں پھونک دو۔ اس تاویل میں بظاہر کوئی ضعف نظر نہیں آتا۔ ان دونوں کو یہ حکم دینے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہی اس کو جہنم میں ڈالیں بھی۔ یہ محض حکم کا بیان ہے اس کی عتمیل میں وہ مجرم کو جہنم میں جھونکنے والے فرشتوں کے حوالہ کردیں گے اور وہ اس کو جہنم کے اس طبقے میں، جو اس درجے کے مجرمین کے لئے خاص ہوگا، ڈال دیں گے۔ اس مثنیٰ سے متعلق زمخرشی نے ایک قول مشہور ادیب مبرد کا بھی نقل کیا ہے کہ فصحانے عرب مثنیٰ کا صیغہ بعض اوقات مجرد تکرار فعل کے مفہوم کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً امراء القیس کے قصیدے کا مطلع ہے۔ قفا نبک من ذکری حبیب و منزل اس کا ترجمہ عام طور پر تو لوگ یوں کرتے ہیں کہ ”میرے دونوں ساتھیو، ٹھہرو ذرا جاناں اور منزل جاناں کی یاد میں دو آنسو بہا لیں۔ ‘ مبرد کے اس قول کی روشنی میں قفا کے معنی صرف ٹھہرو، ٹھہرو کے ہوں گے۔ دو مخاطب فرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح القیا کا مفہوم آیت میں اس کے نزدیک ڈال دو ، ڈال دو ، ہوگا۔ مقصود اس سے اظہار غضب اور تاکید حکم ہے، اس سے بحث نہیں کہ یہ حکم دو فرشتوں کردیا جائے گا یاد و سے زیادہ فرشتوں کو یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہی بات سورة حآقہ میں جمع کے صیغے سے بھی فرمائی گئی ہے : حذوہ فغلوہ ثم الجحیم صلوہ ثم فی سلسلہ ذرعھا سبعون ذراعاً فاسلکوہ (32-30) (اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو، پھر اس کو دوزخ میں دخل کرو، پھر ایک ایسی زنجیریں میں جس کی پیھائش ستر گز ہے، اس کو جکڑ دو) میں نے اس قول کا حوالہ صرف غور و تحقیق کے مقصد سے دیا ہے۔ مجھے اس پر پورا جزم نہیں ہے۔ البتہ مزید تحقیق سے اس کے حق میں اطمینان بخش شواہد فراہم ہوجائیں تو اس سے بعض مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔ جہا تک احوال آخرت کا تعلق ہے ان کے باب میں سلامتی کی راہ میرے نزدیک یہ ہے کہ الفاظ قرآن سے جو مفہوم متب اور ہو آدمی اس پر ایمان رکھے۔ زیادہ کھوج کرید میں نہ پڑے کل کفار عنید، کفار کے معنی ناشکرے اور منکر حق کے ہیں اور عنید کے معنی معاند کے، لفظ کفر اصلاً خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق کے انکار کے لئے آتا ہے۔ دا کے حقوق میں کسی سلیم الفطرت کے لئے کسی بحث و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس وجہ سے ان کا منکر صرف کافر ہے نہیں بلکہ کفار ہے اور اس کی اس کفاری پر مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب وہ ان حقوق کا معافد و مخالف بن کر اٹھ کھڑا ہو کہ دوسرے بھی ان کے ادا کرنے والے نہ بن سکیں۔