Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 29

  1. مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿29﴾

    1. مَانہیں
    2. يُبَدَّلُبدلی جاتی
    3. الْقَوْلُبات
    4. لَدَيَّمیرے پاس، ہاں
    5. وَمَآاور نہیں
    6. اَنَامیں
    7. بِظَلَّامٍظلم کرنے والا
    8. لِّلْعَبِيْدِبندوں پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
میرے اں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مایبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید 29 یہ اسی بات کی مزید وضاحت اور تاکید ہے۔ فرمایا کہ جس بات سے میں پہلے سے آگاہ کرچکا ہوں، اب تمہارے ایک دوسرے پر الزام دھرنے یارو نے دھونے سے وہ بدلی نہیں جاسکتی۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں بالکل قطعی اور اٹل ہیں۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آ رہا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال کا ثمرہ ہے اس وجہ سے اب اس کو بھگتو میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت وما انا بظلام تلعبید، میں عربیت کا جو اسلوب ہے اس کی واضحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہم کرچکے ہیں کہ جب مبالغہ پر نفی آتی ہے تو اس سے مقوصد مبالغہ فی النفی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین عام طور پر اس اسلوب سے چونکہ ناواقف ہیں اس وجہ سے وہ اس کو لیس بظالم کے معنی میں لیتے ہیں اور مترجمعین اپنے ترجموں میں انہی کی یروی کرتے ہیں حالانکہ یہ الفاظ قرآن سے صریح بسے پروائی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اگر مقصود یہی کہنا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظالم نہیں ہے تو زبان کا سادہ اسلوب چھوڑ کر اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے لیس بظلام کا اسلوب کیوں اختیار کیا جاتا ؟ قرآن میں یہ لفظ اور یہ اسلوب کا ایک خاص مقام ہے جس کو اچھی طرح سمجھے بغیر آیت کی صحیح تاویل ممکن نہیں ہے۔ کلام عرب میں اسلوب کی مثالیں موجود ہیں۔ شعرائے جاہلیت میں سے امرائو القیس نے اپنے اعشار میں المرلیس بقتال اور المر لیس بفعال کی ترکیبیں استعمال کی ہیں۔ اس کے حریف نے اس کو جنگ اور قتل کی دھمکی دی تھی تو اس نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ مجھے قتل کی دھمکی دیتا ہے حالانکہ اس بزدل میں قتل و قتال کا ذرا بھی داعیہ نہیں ہے۔ لیس بفعال اس کے اندر کچھ بھی کرسکنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ بعض دوسرے شعراء نے بھی مجے یاد پڑتا ہے کہ اس نوع کی ترکیبیں اسعتمال کی ہیں لیکن افسوس ہے کہ دم تحریر میرے پاس دوا دین نہیں ہیں۔ تاہم میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کی صحت پر مجھے پورا اطمینان ہے۔ قرآن میں یہی بات دوسرے اسلوب میں بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة نساء میں ہے۔ ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ (40) سورة یونس میں ہے۔ اللہ ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا ان اللہ لایظلم الناس شیئاً 44 اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص کو یہ شبہ ہو کہ مبالغہ فی النفی کا جو ضابطہ ہم نے بیان کیا ہے وہ کوئی قاعدہ کل یہ نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ہماری تاویل کی صحت کے لئے یہ بات کافی ہے کہ یہ قاعدہ عربی میں ایک جزئ بے کی حیثیت ہی سے سہی، موجود ہے۔ جب یہ قاعدہ موجود ہے تو قرآن کی تاویل میں تمام ارفن کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے کہ کسی آیت میں دو تاویلوں کا امکان ہو تو اس تاویل کو ترجیح دی جائے گی جو احسن اور بظاہر قرآن کے مطابق ہو۔ یہاں ہماری تاویل کے حق میں کئی باتیں موجود ہیں۔ …یہ عربیت کے اسلوب کے مطابق ہے۔ …یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے شایان شان ہے اس لئے کہ وہ بہرحال ہر شائبہ ظلم سے پاک ہے۔ وہ نہ نیکوں پر کوئی ظلم کیر گا نہ بدوں پر۔ …قرآن کے نظائر و شواہد سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ہمارے مفسرین میں سے صرف صاحب کشاف نے اس آیت کے اشکال سے تعرض کیا ہے، لیکن انہوں نے جس طرح اس کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اس سے ان کے مسلک اعتزال کی تائید تو نکل آتی ہے لیکن ساتھ ہی بعض دوسرے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں جن سے انہوں نے تعرض نہیں کیا۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر اپنے اطاعت گزار بندوں پر ظلم کرے تو یہ بڑا ظلم ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا ظالم نہیں ہے۔ صاحب کشاف کی اس تاویل پر یوں تو بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں لیکن ہم نخیال اختصار صرف دو باتوں کا ذکر کریں گے۔ ایک یہ کہ آیت میں اطاعت گزاروں یا نافرمانوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ عبید (بندوں) کا لفظ ہے جو تمام بندوں کو عام ہے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ ہر ایک سے متعلق یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ تجدیدی و تخصیص بالکل بےدلیل بلکہ قرآن کے الفاظ کے خلاف ہے۔ دوسری یہ کہ آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی ہی ہے ان لوگوں کو مخاطب کر کے جو جہنم کے مستحق تھے۔ ان کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ تمہایر ساتھ وہی معاملہ ہوا ہے جس کے تم سزا وار تھے۔ اللہ اپنے بندوں پر ذررا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ کشاف کی اسی تاویل کو اس دور کے بعض لوگوں نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق ہے، وہ خالق ہو کر اگر اپنی مخلوق پر ظلم کیر تو یہ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا درآنحالیکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے کہ وہ بہت بڑا ظالم بن جائے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ظلام ہونے کی نفی فرمائی۔ یہ بات کہنے والوں کو شاید علم نہیں ہے کہ ہمارے متکلمین کے سواد اعظم نے تو اسی دلیل کی بنا پر کہ خدا خالق ہے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ خدا کے کسی فعل پر ظلم و جور کا حکم لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ وہ اگر نیکوں کو جہنم میں ڈال دے تو یہ بھی عدل ہے اور اگر نافرمانوں کو جنت بخش دے تو یہ بھی عدل ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ پرانے متکلمین کی یہ بات غلط ہونے کے باوجود اتنی غلط نہیں ہے کتنی غلط اس دور کے نئے متکلیمن کی بات ہے۔ دوسرے ان حضرات نے اس پہلو پر بھی غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے ظلم و جور کی جو نفی کی ہے تو اپنی صفات عدل رحمت اور حکمت کی بنا پر کی ہے۔ اس بنیاد پر کہیں اس کی نفی نہیں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اس وجہ سے وہ بڑا ظالم نہیں بن سکتا۔ مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ان حضرات کی نگاہوں سے اوچھل رہ گیا وہ یہ کہ اگر یہ فلسفہ صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ غیر خالق کی طرف سے مخلوقات الٰہی پر ظلم ہو تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا ظلم ہو لیکن وہ ظلال نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ فرعون و ہامان اور نمرود و شداد بھی ان کے نزدیک بڑے ظالم نہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ خالق نہیں تھے اور بڑا ظلم صرف وہی ہوتا ہے جو خالق سے صادرف ہو معلوم نہیں یہ علم ککلام ان حضرات نے کس مکتب میں پڑھا ہے جو کہ خالق و رازق ہے وہ اگر ظلم کرے تو وہ ظلام ہوجائے اور جو نہ خالق ہیں نہ رازق وہ اگر ظلم ڈھائیں تو صرف ظالم رہیں۔ بہرحال یہ ساری موشگافیاں، خواہ قدیم متکلمین و مفسرین کی ہوں یا نئے مترجموں و مفسروں کی عربی زبان کے اس اسلوب سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں جس کی ہم نے اوپر واضحت کی ہے۔