Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 30

  1. یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ﴿30﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. نَقُوْلُہم کہیں گے
    3. لِجَهَنَّمَجہنم سے
    4. هَلِکیا
    5. امْتَلَاْتِکیا تو بھر گئی
    6. وَتَقُوْلُاور وہ کہے گی
    7. هَلْکیا
    8. مِنْ مَّزِيْدٍکچھ مزید ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گی ! اور وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یوم نقول لجھنم ھل امتلئت وتقول ھل من مزید 30 اللہ تعالیٰ کی بےنیازی فرمایا کہ اس دن کو اچھی طرح یاد رکھو جس دن ہم دوزخ سے سوال کریں گے کہ تو اچھی طرح بھر گئی یا نہیں ! وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں ! یہ سوال و جواب صورتحال کی تعبیر بھی ہوسکتا ہے اور بیان واقعہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بنائی ہیں وہ سب اس کے سوالوں کو سمجھتی بھی ہیں اور ان کے جواب بھی دیتی ہیں۔ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے صامت چیزوں کو بھی ناطق بنا دے۔ قرآن میں ہے کہ جب مجرموں کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے تو وہ حیران ہو کر ان سے پوچھیں گے کہ ت نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء رحم السجدہۃ 21:) میں اسی خدا نے ناحق بنا دیا جس نے ہر چیز کو ناطق بنایا۔) یہ سوالو جواب اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اور اس کے بےپایاں غضب کی تصویر ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ میں بھرتے ہوئے ذرا ھی اس کو تردد لاحق نہیں ہوگا بلکہ وہ پوری بےنیازی سے سب کو جہنم میں پھنکوا دے گا اور پھر جہنم سے پوچھے گا کہ کیوں تبراہٹ اچھی طرح بھر گیا یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غطل فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار خلقت کو جہنم میں جھونکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو کچھ تاسف ہوگا کہ اپنی پیدا کی ہوئی اتنی مخلوق کو میں نے آگ میں جھونک دیا بلکہ اس کے جوش غضب کا یہ حال ہوگا کہ اور بھی ہوں تو ان کو بھی وہ جہنم کا ایندھن بنا دے۔ وتقول ھل من مزید جہنم کے اس جواب کے دو پہلو ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جس جوش غضب کے ساتھ یہ سوال فرمائے گا اسی جوش کے ساتھ وہ بھی جواب دے گا کہ اور بھی ہوں تو میرے اندر بڑی سمائی ہے، ان کو بھی لائیے، دوسرا یہ کہ دوزخیوں کی اس کثرت کو دیکھ کر اس کا حوصلہ جواب دے گا جائے گا اور وہ بےحوصلہ ہو کر جواب دے گی کہ کیا اور بھی ہیں ! اگرچہ آیت کے الفاظ سے یہ دونوں مفہور نکل سکتے ہیں لیکن میں پہلے کو ترجیح دیتا ہوں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ مفہوم لینے میں دوزخیوں پر اللہ تعالیٰ کے جوش غضب اور جہنم کے جوش غضب میں پوری مطابقت ہوجاتی ہے اور یہی بات دوزخ کے لئے موزوں ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل پورے جوش و ولولہ کے ساتھ کرے دوسری یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ دوزخ کی وسعت کا بیان اس انداز سے ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کو متنبہ کیا جارہا ہے جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ بھلا اتنی مخلوق کو بھرن یکے لئے اتنی وسیع دوزخ کہاں سے لائی جائے گی۔ آیت لھا سبغۃ ابواب … الایۃ (الحجر :44) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے 1 تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض ماقمات میں دوزخ کی تصویر اس طرح کھینچی گئی ہے کہ جب دوزخی اس میں جھونکے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ جوش غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اذا القوا فیھا سمعوال ھا شھیقا و ھی تفورہ لکاد تمیز من الغیظ (الملک :8-7) یہی مضمون سورة ہود کی آیت 106 میں بھی ہے۔