تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 9
وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ﴿9﴾
- وَنَزَّلْنَااور ہم نے اتارا
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مَآءً مُّبٰرَكًاپانی بابرکت
- فَاَنْۢبَتْنَاپھر ہم نے اگائے
- بِهٖاس سے
- جَنّٰتٍباغات
- وَّحَبَّاور دانہ (غلہ)
- الْحَصِيْدِکاٹنے (کھیتی)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ونزلنا من السمآء مآء مبرکا فانبتنا بہ جنت وحب المحصید، والنحل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد و احیینا بہ بلدۃ میتا ط کذلک الخروج (11-9)
آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے
یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزاء و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ مآء قلبارک سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ ایسی بارش بھی ہوتی ہے جو زریخیز کے بجائے تباہی کا باعث بن جاتی ہے اور وہ قوموں کے لئے عذاب کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہاں مبارک کی فت اسی شبہ کے ازالہ کے لئے ہے۔
حب الحمید سے وہ اجناس مراد ہیں جن کا ورو عمل میں آتا ہے اور جو ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ مثلاً گندم اور جو وغیرہ باغوں کے ساتھ حب الحصید کے ذکر سے مقصود اس اہتمام ربوبیت کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے رب نے اپنے بندوں کے لئے فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے باغوں میں تازہ اور لذیذ پھل بھی پیدا کئے اور کھیتوں میں غذائی اجناس بھی اگائیں جو پکنے پر کاٹ کر ذخیرہ کرلی جاتی اور برابر کام آتی ہیں۔
والنحل بسقت لھا طلع لصید، بظاہر جناب کے بعد نخل کے ذکر کی ضروتر نہیں تھی، لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو ان کے لئے بہترین پھل بھی تھا اور بڑی حد تک ان کی غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا اس کی دراز قامتی اور اس کے تہ بہ تہ خوشوں کی طرف اشارہ مخاطب کے اندر مشاہدہ کائنات کی حس اور شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ہے کہ وہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھے اور ان سے وہ اثر لے جو ایک حساس اور بیدار دل کو لینا چائے۔
رزقا للعباد یعنی تہ بہ تہ خوشے خود اپنی صورت سے گواہی دے رہے ہیں کہ خالق نے ان پر اپنی قدرت، حکمت اور صناعی اس فیاضی کے ساتھ اس لئے صرف فرمائی ہے کہ اس کے بندے ان سے بہرہ مند ہوں، ان کے اندر اس کی حکمت و ربوبیت کی شانوں کا مشاہدہ کریں اور ان نعمتوں کا حق پہچانیں کہ ایک دن لازمًا ان کی بابت اس سے پرستش ہونی ہے۔
واحیینا بہ بلدۃ میتا کذلک الخروج یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو اس سورة کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جس بارش کی یہ برکتیں دیکھتے ہو اسی بارش کا یہ کرشمہ بھی ہے کہ زمین جو بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی کسی سبزہ یا روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا، بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے چپہ چپہ سے ایک حیات تازہ نمودار ہوجاتی ہے اسی پر قیاس کرو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بھی، جس سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے، لیکن تم اس کو ناممکن خیال کر رہے ہو۔