Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 52. At-Tur · Ayah 33

  1. اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿33﴾

    1. اَمْ يَقُوْلُوْنَیا وہ کہتے ہیں
    2. تَقَوَّلَهٗ ۚاس نے گھڑ لیا اس کو
    3. بَلْ لَّابلکہ نہیں
    4. يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان لاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے خود ہی گھڑا ہے ! بلکہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(امر یقولون نقولہ بل لا یومنون فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانو صدقین) (33، 34) (ایک اور الزام کا جواب)۔۔ یہ ان کے ایک اور الزام کا حوالہ اور اس کا جواب ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو گھڑا تو انہوں نے خود ہے لیکن اپنی نبوت کی دھونس جمانے کے لیے دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ سے ان پر اتارا ہے۔ تقول کے معنی کسی پر جھوٹا بہتان لگانے کے ہیں، یہی مضمون دوسرے مقامات میں (بد فترہ) سے ادا کیا گیا ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ کتاب ہے تو ان کی اپنی طبع زاد لیکن عوام فریبی کے لیے جھوٹ موٹ یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ (بل لا یومنون) یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کا یہ الزام بھی ان کے اپنے ضمیر کے بالکل خلاف ہے۔ ان کو پورا یقین ہے کہ یہ کتاب تمہاری تصنیف نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کا کلام نہ تم پیش کرسکتے ہو، نہ کوئی دوسرا پیش کرسکتا ہے لیکن آپ پر ایمان نہیں لانا چاہتے اس وجہ سے یہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ سخن سازی کر رہے ہیں، یہاں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے معنی میں ہے، اس کی مثالیں اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہیں۔ (فلیا توا بحدیث) الایۃ۔۔ یہ ان کے الزام کے جواب میں ان کو چیلنج ہے کہ اگر فی الواقع وہ اس کو پیغمبر کی اپنی تصنیف گمان کرتے ہیں تو وہ اپنے خطیبوں اور شاعروں کے کلام میں سے کوئی چیز اس کے مانند پیش کریں، خواہ وہ ان کے پرانے ذخائر میں سے ہو یا اب وہ خود سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی چیز اس کے جواب میں پیش کریں، اگر وہ ایسا نہ کرسکیں (اور ہرگز نہیں کرسکتے) تو پھر راستبازی کا تقاضا یہ ہے کہ اس الزام کو واپس لیں اور پیغمبر ﷺ کو صادق و امین مان کر اس پر ایمان لائیں۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہ بات فرمائی تو ہے قریش کے جواب میں اور انہی کے جواب میں یہ فرمانے کی تھی بھی لیکن یہ چیلنج آج بھی علی حالیہ قائم ہے۔ قرآن کے منکرین نہ تو اسے قدیم ادبی و مذہبی ذخیرہ میں سے اس کے مانند کوئی چیز پیش کرسکے، نہ خود ہی کوئی چیز ایجاد کرسکے اور نہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی جس کو اس چیلنج کا جواب قرار دیا جاسکے۔ دنیا کی غیر عرب قوموں کے لیے یہ چیلنج براہ راست نہیں ہے تاہم وہ بھی طبع آزمائی کر کے دیکھ سکتی ہیں کہ وہ کوئی چیز اس کے پائے کی لا سکتی ہیں یا نہیں۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قرآن کی یہ تحدی کسی ایک ہی پہلو سے نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ایک صحیفہ ٔ ہدایت ہونے کے پہلو سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی قوم یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اس کے شاعر کے پایہ کا کوئی شاعر یا اس کے خطیب کے درجے کا کوئی خطیب دنیا میں نہیں ہے لیکن اول تو یہ دعویٰ ہی محل نظر سے ہے، دوسری قوم اس کے جواب میں اپنے خطیب یا شاعرکے حق میں یہی دعویٰ کرسکتی ہے لیکن کسی کا یہ دعویٰ تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ زیادہ سے زیادہ کسی ایک منبر میں برتری کا دعویٰ ہوگا جس کو کوئی شخص نہ اپنے نبی ہونے کے ثبوت میں پیش کرسکتا اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر اس کو نبی یا رسول مان سکتا۔