Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 52. At-Tur · Ayah 32

  1. اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿32﴾

    1. اَمْ تَاْمُرُهُمْیا حکم دیتی ہیں ان کو
    2. اَحْلَامُهُمْان کی عقلیں
    3. بِھٰذَآاس کا
    4. اَمْ هُمْیا وہ
    5. قَوْمٌ طَاغُوْنَلوگ ہیں سرکش
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان کی عقلیں یہی باتیں ان کو سمجھاتی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(امرتا مرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاعون) (32) (مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب ان کی سرکشی ہے) یعنی معاملہ دو شکلوں سے خالی نہیں یا فی الواقع ان کی عقلیں ہی کچھ ان کو سمجھا رہی ہیں کہ تم اللہ کے رسول نہیں بلکہ ایک کاہن، مجنوں اور شاعر ہو یا یہ بات ہے کہ یہ لوگ اپنی سر کشی کے باعث تمہاری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اس وجہ سے تکذیب کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی بات کا امکان تو بہت بعید ہے۔ آخر کوئی عاقل تمہارے جیسے صداقت شعار، راست باز، قل، فرزانہ، متین، زرین، مومن، مسلم، حنیف اور حکیم کو کاہن، مجنوں اور شاعر کس طرح قرار دے سکتا ہے ! اگر کوئی یہ جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عقل سے بالکل عاری ہے۔ اب صرف دوسرا مکان باقی رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ نہایت سر کش ہیں اور اس سر کشی ہی کے سبب سے یہ سخن سازیاں کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ سر کشی ہی ان سے یہ باتیں کہلورہی ہے۔ عقل کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔