Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 11

  1. فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ﴿11﴾

    1. فَفَتَحْنَآتو کھول دیئے ہم نے
    2. اَبْوَابَ السَّمَآءِدروازے آسمان کے
    3. بِمَآءٍساتھ ایک پانی کے
    4. مُّنْهَمِرٍبرسنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھاربارش سے کھول دیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نفتحنا ابواب السماء بما منھمرہ و فجرنا الارض عیونا فالتقی مالماء علی امر قد قدرا (11۔ 12) (یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعا کے بعد انکی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورة ذرایا کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کردیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی ظوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریائوں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔ (فالتقی الماء علی امر قد قدر) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان پانی کے بلند ہونے کے لیے ٹھہرا لیا گیا تھا اس نقطہ پر زمین اور آسمان کا پانی باہم جا ملا اور اس نے پوری قوم نوح کو اس طرح چھا لیا کہ کسی کے لیے بھی اس سے بچنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔