Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 15

  1. وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾

    1. وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآاور البتہ تحقیق چھوڑ دیا ہم نے اس کو
    2. اٰيَةًایک نشانی کے طور پر
    3. فَهَلْتو کیا
    4. مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس سرگزشت کو ایک داستان عبرت بنا کر چھوڑا (عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے) تو ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد ترکنھا ایہ فھل من مد کر (15) (نشانیاں بہت ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں)۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہ سر زمین بھی ہو سکتی ہے جس کا ذکر اوپر (فجزنا الارض عیونا) (13) کے الفاظ سے ہوچکا ہے اور قوم نوح کی یہ سر گزشت بھی ہو سکتی ہے جس کی تفصیل تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ اور جس کو ہر دور میں تواتر عام کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے۔ عربی زبان میں ضمیروں کا اس طرح استعمال ایک معروف چیز ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں ہم پیش کرچکے ہیں اور آگے بھی آئیں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے کشتی نوح کے ڈھانچے کو مراد لیا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس امت کے بعض اگلوں نے کوہ جودی کے کسی حصہ میں اس کو دیکھا تھا۔ لیکن اس روایت کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورة حاقہ کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ (فھل من مد کر) یعنی نشانیاں اور عبرت انگیز واقعات تو بہت ہیں جو صحیفہ و ارض پر بھی ثبت ہیں اور تاریخ کے اوراق میں بھی محفوظ ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے دل کہاں ہیں !