تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 23
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴿23﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- ثَمُوْدُ بالنُّذُرِثمود نے ڈراووں کو۔ تنبیہات کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
ثمود نے بھی اتذار کی تکذیب کی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کذبت ثمود بالنذرہ فقا لو ابشر منا واحد نتبعہ انا اذالفی ضلل وسعر (23۔ 4 2) یعنی قوم ثمود نے بھی اسی طرح رسول کی تنبیہات کی تکذیب کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ہی اندر (واقعہ ثمرد) کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم گمراہی میں پڑے اور بھاڑ میں گئے عام طور پر مترجموں نے ’ سعر ‘ کا ترجمہ جنون کیا ہے لیکن یہاں یہ لفظ جس اسلوب سے استعمال ہوا ہے وہ اس معنی سے اباء کرتا ہے، میرے نزدیک یہ ’ سعیر ‘ کی جمع ہے اور آگ کے معنی میں آیا ہے۔ ، اسی سورة کی آیت 47 میں ہے۔ ان المجر میں فی ضل وسعر (بےشک مجرمین گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑنے والے ہیں) ظاہر ہے کہ یہ انذار حضرت صالح ؑ نے بھی اپنی قوم کو کیا ہوگا۔ انہی کو کہی ہوئی بات قوم نے ان کے اوپر الٹ دی کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو ہم گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑیں گے، حالانکہ اگر ہم ان کے پیر وبن گئے تب گمراہی میں مبتلا ہو کر جہنم کے سزا وار ٹھہر گے۔ بھاڑ میں جانے اور جہنم میں پڑنے کے محاورے ہماری زبان میں بھی معروف ہیں۔ گمراہی اور جہنم میں سبب اور مسبب کا رشتہ واضح ہے لیکن گمراہی اور جنون میں اس طرح کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔