Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 28

  1. وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿28﴾

    1. وَنَبِّئْهُمْاور آگاہ کرو ان کو
    2. اَنَّ الْمَآءَبیشک پانی
    3. قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚتقسیم کیا ہوا ہے ان کے درمیان
    4. كُلُّ شِرْبٍہر ایک کے پانی کی باری
    5. مُّحْتَضَرٌحاضر کی گئی ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کو آگاہ کر دے کہ اب پانی ان کے درمیان تقسیم ہے۔ باری باری پر حاضر ہونا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ونبئھم ان الماء قئمۃ بینھم کل شرب محتضر (28) اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے حضرت صالح ؑ کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کر دو کہ پانی پینے کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہوگا۔ اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کہ کسی کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری میں کوئی اس سے تعرض کرے۔ اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ نے اس لئے مقرر فرمایا کہ ان کے اندر کا سارا کھوٹ باہرآجائے اور آشکارا ہوجائے کہ ان کی سر کشی کا پارا کتنا چڑھ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تنبیہ کے بعد کہ یہ اونٹنی عذاب الٰہی کا نشان ہے اس کو گزنذپہنچانے کی جسارت وہی کرسکتے تھے جن کو خود پیغمر پر ہاتھ اٹھانے میں کوئی خوف مانع نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی قوم کے طغیان کی یہی حد سے جس پر پہنچ جانے کے بعد وہ اللہ کے عذاب کی مستحق ہوتی ہے۔ اس کے بعد اتمام محبت کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔