تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 3
وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾
- وَكَذَّبُوْااور انہوں نے جھٹلایا
- وَاتَّبَعُوْٓااور پیروی کی
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات کی
- وَكُلُّاور ہر
- اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّکام کا وقت مقرر ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(وکذبوا واتبعوا اھواء ھم و کل امر مستقر) (3)
(کفار کو ڈھیل دینے کی حکمت)۔ یہ ان کی تکذیب، سبب تکذیب اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ انہوں نے (یعنی قریش نے) خدا کے نذیر اور اس کے انداز کی تکذیب کردی اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے سبب سے وہ سنت الٰہی کے سابق عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام ایک معین پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ جب ان کی اجل معین پوری ہوجائے گی تو پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پیغمبر ﷺ کا انداز محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کر رکھا ہے تاہم وہ بالکل قریب آگیا ہے۔
(تکذیب کی علت)۔ کذابو کے بعد (واتبو اھوا ھم) کے الفاظ سے ان کی تکذیب کی علت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انہوں نے رسول کے انداز کو جو تکذیب کی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تکذیب کی کچھ دلیلیں ہیں یا فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو ابھی صاف نہیں ہوئے ہیں یا ان کو کوئی ایسی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے جو ان کو مطمئن کر دے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ اگر وہ جزاء و سزا کو مان لیں تو اپنی ان خواہشوں سے انہیں دست بردار ہونا پڑتا ہے جس کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے اس وجہ سے وہ مختلف قسم کی باتیں بنا رہے ہیں۔ یہ مضمون سورة نجم کی آیت 29 کے تحت وضاحت سے گزر چکا ہے۔