تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 4
وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ﴿4﴾
- وَلَقَدْ جَآءَهُمْاور البتہ تحقیق آئیں ان کے پاس
- مِّنَ الْاَنْۢبَآءِخبروں میں سے
- مَا فِيْهِجو اس میں
- مُزْدَجَرٌڈانٹنا ہے۔ کافی تنبیہ ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کو ماضی کی سر گزشتیں پہنچ گئیں ہیں جن میں کافی سامان عبرت موجود ہے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزد جز) (4)
(عاقل دوہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے)۔ یہ اسی اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ اگر ان پر ابھی عذاب نہیں آیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی جو سر گزشتیں سنائی گئی ہیں اگر وہ غور کریں تو ان کے اندرکافی سامان عبرت موجود ہے۔ ان سرگزشتوں سے انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس قوم نے بھی رسول کے انداز کی تکذیب کی بالآخر عذاب الٰہی کی گرفت میں آگئی۔ تاخیر عذاب سے وہ قومیں بھی انہی کی طرح اس مغالطے میں مبتلا ہوئیں کہ پیغمبر کی دھمکی محض خالی خولی دھمکی ہے لیکن وہ بالکل سچی ثابت ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حق میں بہتر ہے کہ تاریخ سے سبق لیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ جب سب کچھ ان کے اپنے سروں پر سے گزر جائے گا تب مانیں گے۔ اس وقت کا اعتراف نہ پہلوں کے لیے مفید ہوا ہے نہ ان کے لیے مفید ہوگا۔
قوموں کی یہ گر گزشتیں پچھلی صورتوں میں بھی اجمالاً و تفصیلاً گزر چکی ہیں اور اس سورة میں بھی آیت 9 سے وہ آرہی ہیں۔ وہاں آپ دیکھیں گے ہر سر گزشت کے بعد (فکیف کان عذابی ونذر) کی آیت بار بار آئی ہے تاکہ مخاطب پر واضح کردیا جائے کہ رسول کے انداز کی صداقت یوں ثابت ہو کے رہتی ہیں اور اس کو جھٹلانے والے یوں عذاب میں پکڑے جاتے ہیں۔