تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 38
وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ﴿38﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- صَبَّحَهُمْصبح کی ان پر
- بُكْرَةًصبح سویرے
- عَذَابٌایک عذاب نے
- مُّسْتَقِرٌّمستقل۔ اٹل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان پر آدھمکا سویرے ایک ٹک جانے والا عذاب ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستفر) (38)
صبح کے وقت ان پر کنکر برسا دینے والا ہوا کا عذاب آ دھمکا۔ عرب میں حملہ اور غارت گری کا وقت بالمعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اس وجہ سے لفظ صبح اس معنی میں آنے لگا۔ اوپر اشارہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ؑ اپنے اتباع کے ساتھ سحر کے اول وقت بستی سے نکل چکے تھے، یہاں یہ وضاحت ہے کہ عذاب طلوع صبح کے بعد آیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے بستی سے نکلنے کے بعد عذاب کے آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ حضرت لوط ؑ عذاب کے علاقہ سے باہر نکل گئے۔ (عذاب مستقر) سے مراد تک جانے والا عذاب ہے۔ عذاب ایک تو وہ ہے جو محض تنبیہ کے لیے آتا ہے جس میں کافر و مومن دونوں بلا امتیازحصہ پاتے ہیں۔ البتہ مومن اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور کافر اس سے اپنی قساوت قلب میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسرا عذاب وہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں مکذبین کا فیصلہ کردینے کے لیے آتا ہے۔ یہ عذاب جس قوم پر آیا اس نے وہیں ڈیرے ڈال دیے۔ اہل ایمان تو اس علاقہ سے نکال لیے گئے لیکن جنہوں نے رسول کی تکذیب کی وہ سب وہیں فنا کردیئے گئے۔ (مستقر) سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عذاب کوئی ایسا عذاب نہیں تھا جو ایک جھونکے کی طرح آیا اور گزر گیا بلکہ یہ وہیں ٹک کے رہ گیا۔