تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 37
وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾
- وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُاور البتہ تحقیق انہوں نے بہلایا اس کو
- عَنْ ضَيْفِهٖاس کے مہمانوں سے
- فَطَمَسْنَآ اَعْيُنَهُمْتو موند ڈالیں ہم نے ان کی آنکھیں
- فَذُوْقُوْاتو چکھو
- عَذَابِيْ وَنُذُرِعذاب میر اور ڈراوے میرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے اسکو اس کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا تو ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں تو چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عدابی ونذر (37)۔ یہ ان کی اس آخری جسارت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آ دھمکا۔ فرمایا کہ جس بےحیائی میں وہ مبتلا تھے رسول کی تنبیہات سے اس سے باز آتا تو الگ رہا وہ اس میں دن پر دن دلیر ہی ہوتے گئے یہاں تک کہ جب فرشتے خوبصورت مردوں کے بھیس میں حضرت لوط ؑ کے پاس آئے تو یہ ان کے مکان پر چڑھ دوڑے اور ان کو راضی کرنا چاہا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کی ہوس کاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ جو لوگ اس طرح اندھے بہرے بن جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ اندھے بہرے ہی کردیئے جاتے ہیں، پھر نہ کوئی موعظت وہ سننے کے اہل رہ جاتے، نہ کوئی بڑی سے بڑی نشانی دیکھنے کے اس کے بعد واحد چیز جوان کے لیے باقی رہ جاتی ہے وہ اللہ کا عذاب ہے چناچہ یہ لوگ بھی اسی عذاب کے حوالہ کردیئے گئے۔ (فطمسنا اعینھم) کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ان کی ظاہری آنکھیں بھی موند دی گئی ہوں بلکہ یہ ان کی بصیرت سے کلیۃً محروم کردیئے جانے کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن میں اس مفہوم کے لیے یہ اسلوب بیان جگہ جگہ استعمال ہوا ہے مثلاً سورة محمد میں ہے۔
(۔۔۔۔ محمد 23۔۔۔۔۔) (یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی۔ پس ان کے کان بہرے کردیئے اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں)۔ اس آیت کی روشنی میں (طمسنا اعینھم) کا مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ اپنی ہوائے نفس سے مغلوب ہو کر اس حد کو پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عاقبت بینی کی صلاحیت ہے بالکل محروم ہوگئے۔ انسان کی آنکھوں کا اصلی جوہر ان گڑھوں میں نہیں جو چہروں پر نظر آتے ہیں بلکہ آنکھوں کی بصیرت میں ہے۔ یہ چیز جسکے اندر ختم ہوگئی اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہوئی وہ ہر لمحہ خدا کے غضب کا ہدف ہے۔ ویسے یہ بات بھی معلوم ہے کہ جب ان اشرار نے حضرت لوط ؑ کو ان مہمانوں کے لیے ورغلا نا چاہا تو مہمانوں نے حضرت لوط ؑ پر یہ راز کھول دیا تھا کہ آپ مطمئن رہیں، ہم بشر نہیں بلکہ خدا کے فرستادے ہیں۔ ان شیاطین کی مجال نہیں ہے کہ ہمارے پاس پھٹک سکیں۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے حضرت لوط ؑ کو روانہ ہوجانے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت لوط ؑ کے روانہ ہوجانے کے بعد قرین قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے اصل ملکوتی روپ میں آگئے ہوں گے اور اس روپ میں ان کو بشری آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں۔