تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 46
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ﴿46﴾
- بَلِ السَّاعَةُبلکہ قیامت
- مَوْعِدُهُمْان کے وعدے کی جگہ ہے۔ وقت ہے
- وَالسَّاعَةُاور قیامت
- اَدْهٰىبہت سخت ہے
- وَاَمَرُّاور بہت کڑوی
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ ان سے جو وعدہ ہے اسکے پورے ہونے کا اصلی وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی سخت اور بڑا ہی کڑوا ہو گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(بل الساعۃ مرعدھم والساعۃ ادھی وامر (46)
(عذاب دنیا کے بعد عذاب آخرت)۔ یعنی اس ہزیمت و پامالی سے تو وہ اسی دنیا میں عنقریب دو چار ہوں گے لیکن ان کو جو وعید سنائی جا رہی ہے اس کے ظہورکا اصلی دن قیامت کا دن ہے جو ان کے لیے بڑا ہی کٹھن اور نہایت ہی کڑوا ہوگا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اوپر والی آیت میں اس عذاب و ہزیمت کا ذکر تھا جس سے رسولوں کے مذبین کو لازماً اسی دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ اس آیت میں اس عذاب کا حوالہ ہے جو اصل روز حساب یعنی قیامت میں انکے سامنے آئے گا اور جو بڑا ہی کٹھن ہوگا۔ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اس سنت الٰہی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے اس دنیا میں بھی لازماً شکست کھاتے ہیں اور آخرت تو ان کی رسوائی کی جگہ سے ہی۔ اسی حقیقت کی طرف آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔ موعد یہاں ظرف کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان کو جو وعید سنائی جا ررہی ہے اس کے ظہور کا اصلی وقت یا جگہ۔ ’ ادھی ‘ یعنی ایسی مصیبت کا دن ہوگا کہ اس دن کسی کو کچھ سمجھائی نہیں دے گا، سب کی سٹی بھول جائے گی۔