تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 47
اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴿47﴾
- اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَبیشک مجرم لوگ
- فِيْ ضَلٰلٍگمراہی میں ہیں
- وَّسُعُرٍاور جنون میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک مجرمین گماہی میں ہیں اور دوزخ میں پڑیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ان المجرمین فی ضلل و سعر) (47)۔
(فقط سحر کے جمع لانے کا فائدہ)۔ یعنی آج تو یہ بڑے طنطنہ سے کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے ہی اندر کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کی تو ہم گمراہی اور جہنم میں پڑنے والے بنے لیکن اس دن یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جنہوں نے رسول کے انداز کی تکذیب کی وہ سارے مجرمین گمراہی میں تھے اور اس گمراہی کا نتیجہ ان کے آگے جہنم کی شکل میں آیا۔ لفظ ’ سعر ‘ ہمارے نزدیک جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں، جنون کے معنی میں نہیں بلکہ جہنم ہی کے مفہوم میں ہے۔ اس کے جمع کی صورت میں لانے سے مقصود اس کے مختلف طبقات کی طرف اشارہ ہے۔ لفظ جنت بھی اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ جمع کی صورت میں آیا ہے۔