Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 55

  1. فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ع﴿55﴾

    1. فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍسچی عزت کی جگہ۔ سچائی کی جگہ
    2. عِنْدَ مَلِيْكٍبادشاہ کے نزدیک
    3. مُّقْتَدِرٍجو اقتدار والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ایک پائدار مقام عزت میں، ایک مقتدر بادشاہ کے پاش۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(فی مقعد صدق عند ملیک متت) (55) یہ ان مقتیوں کی اصل سرفرازی کا بیان ہے کہ جنت کا یہ جادواں ان کو ایک پائیدار عزت والی پائگاہ میں، عظیم قدرت والے بادشاہ کے قرب میں، حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قرب ہی ہے جو جنت کو جنت بناتا ہے ورنہ اس کی حیثیت ایک باغ سے زیادہ نہیں ہے۔ مقعد کی اضافت صدق کی طرف اس کی عزت، پائیدار اور ابدیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس طرح لسان صدق کی ترکیب میں یہ تمام مفہوم پائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دربار عظیم کے درباری ہونے کا جو شرف ان کو حاصل ہوگا، نہ اس کی عزت بنا وٹی اور نمائشی ہوگی نہ چند روزہ کہ آج ہے اور کل کرسی چھن جائے تو کوئی بھی پوچھنے والا نہ رہے۔ عند ملیک مقتدر۔ ملیک میں ملک کے بالمقابل زیادہ زور ہے۔ اس کے ساتھ مقتدر کی صفت اس کو مزید زور دار بنانے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کا بادشاہ محض نام کا بادشاہ نہیں ہے، جیسا کہ مشرکوں اور ان گمراہ فرقوں نے مانا ہے جو خدا کو ہر چیز سے بالا محض ایک وجود معطل قرار دیتے ہیں، بلکہ وہ ہمہ گیر اقتدار رکھنے والا ہے۔ لفظ عند سے ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ انسان کو بلند سے بلند رتبہ بھی جو حاصل ہوگا وہ صرف یہ ہے کہ وہ بادشاہ حقیقی کے قرب میں عزت کی جگہ پائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ وہ خدا میں ضم ہو کر خود خدا بن جائے، جیسا کہ باطنی صوفیوں نے دعویٰ کیا ہے۔ رب کریم کے فضل سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک)۔ رحمان آباد۔ 11 اگست 1977 ء۔ 25 شعبان 1397)۔