تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 7
خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾
- خُشَّعًاجھکی ہوئی ہوں گی
- اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
- يَخْرُجُوْنَنکلیں گے
- مِنَ الْاَجْدَاثِقبروں سے
- كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
- جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور یہ نکلیں گے قبروں سے جس طرح منتشر ٹڈیاں نکلتی ہیں ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(خشعاً) اور (مھطعین) دونوں حال ہیں (گا نھم جراد منتشر) نفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سر شام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھاہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہیں اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔ (یقول الکفرون ھذا یوم عشر) یعنی آج تو جب اللہ کا رسول ان لوگوں کو اسدن کے ہول سے ڈراتا ہے تو ان کو ہر چیزانہونی اور ناممکن نظر آتی ہے اور نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب وہ دن سامنے آجائے گا تو نہایت حسرت و یاس کے ساتھ پکار اٹھیں گے کہ لاریب وہ کٹھن زدن آگیا جس سے نبیوں اور رسولوں نے آگاہ کیا تھا !