Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 6

  1. فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ﴿6﴾

    1. فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘتو منہ پھیر لو ان سے
    2. يَوْمَ يَدْعُجس دن پکارے گا
    3. الدَّاعِپکارنے والا
    4. اِلٰىطرف
    5. شَيْءٍایک چیز کے
    6. نُّكُرٍانجان
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن پکارنے والا ان کو ایک نہایت ہی نا مطلوب چیز کی طرف پکارے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(فتول عنھم یوم یدع الداع الی شی نکیر) (6) (نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت)۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت ہے کہ ایسے اندھوں کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ دکھانا تمہارے بس میں نہیں۔ اب تم ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اسرافیل صور پھونکیں گے اور یہ قیامت کے عذاب کی طرف پکارے جائیں گے۔ ’ تول ‘ یہاں ’ انتظر ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہی مضمون دوسری آیت میں یوں آیا ہے۔ (واستمع یوم ینا دالمنا من مکان قریب) (ق : 41) (اور کان لگائو اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا) ’ نکر ‘ سے اشارہ ہوں قیامت کی طرف ہے۔ اس کی ہولناکی کی شدت ظاہر کرنے کے لیے ابہام کا اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یعنی آج تو ان کو اس دن کے لیے تیاری کی جو دعوت دی جا رہی ہے اس کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں، لیکن جلد وہ وقت آ رہا ہے کہ ایک داعی اسی ہولناک چیز کی طرف پکارے گا اور سب اس کی طرف نہایت فرمانبرداری دخشیت کے ساتھ بھاگیں گے۔ (صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر)۔ یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لئے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا دعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے جس طرح ٹڈی دل نکلتا یہ اور ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔