Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 9

  1. كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ﴿9﴾

    1. كَذَّبَتْجھٹلایا
    2. قَبْلَهُمْان سے پہلے
    3. قَوْمُ نُوْحٍقوم نوح نے
    4. فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَاتو انہوں نے جھٹلایا ہمارے بندے کو
    5. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    6. مَجْنُوْنٌمجنون ہے
    7. وَّازْدُجِرَاور ڈانٹا گیا۔ خوب دھمکی دیا گیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
(ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا۔ انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کردی اور کہا کہ یہ تو خبطی ہے اور وہ جھڑک دیا گیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے آیات 9۔ 17 کا مضمون اوپر آیت 4 (ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجو) میں قریش کو یہ تنبیہ جو فرمائی گئی ہے کہ آخر یہ لوگ عذاب دیکھنے ہی کے لیے کیوں مچلے ہوئے ہیں، ان کو پچھلی قوموں کی جو تاریخ سنائی گئی ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے ! ! اس کی وضاحت کے لیے آگے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سنائی جا رہی ہے کہ تمہاری ہی طرح ان قوموں نے بھی اپنے رسولوں کے انداز کا مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب کی گرفت میں آگئیں جس سے اللہ کے رسول نے ان کو ڈرایا تو بہتر ہے کہ ان قوموں کی تقلید کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ اللہ نے اپے فضل خاص سے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس سے یاددہانی حاصل کرو۔ یہ کتاب مقصد تعلیم و تذکیر کے لیے ہر پہلو سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (کذبت قبلھم قوم نوح فکذبوا عبدنا وقالوا مجنون واز دجر) (9) (قوم نوح کے انجام کی طرف اشارہ) ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ آیت 4 میں قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ فرمایا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کی قوم کے واقعہ کو لیا ہے اس لیے کہ یہاں بیان واقعات کی تربیت تاریخی ہے۔ فرمایا کہ ان سے (یعنی قریش سے) پہلے قوم نوح بھی اللہ کے رسول کے انداز کی تکذیب کرچکی ہے۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تنہا تمہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دو چار نہیں ہونا پڑا ہے۔ ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان سے پہلے قوم نوح بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب کرچکی ہے اور دوسری قومیں بھی جن کی تفصیل آ گے آرہی ہے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تاریخ کی ایک پرانی اور معروف حکایت ہے جو کچھ اگلے رسولوں کو پیش آیا ہے اس سے تمہیں بھی سابقہ پیش آئے گا اور تکذیب کے جس انجام سے دوسری قومیں دو چار ہوئی ہیں اسی سے تمہاری قوم بھی دو چار ہوگی اگر اس نے انہی قوموں کی تقلید کی۔ (فکذبوا عبدنا وقالوا مجنون وازدجر)تفصیل کے لیے ہے۔ واقعہ کا اجمالاً حوالہ دینے کے بعد اب یہ اس کی تفصیل سنائی جا رہی ہے کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اس کو دیوان اور خطبی ٹھہرایا اور اس کو جھڑک دیا گیا۔ لفظ ’ عبدنا ‘ سے حضرت نوح ؑ کے لیے اللہ تعالیٰ کی جس محبت خاص کا اظہار ہو رہا ہے یہ محتاج بیان نہیں ہے۔ عزت و جاہ کے سرمستوں اور عیش دنیا کے متوالوں کو اللہ کے رسولوں نے جب عذاب دنیا اور عذاب آحرت سے ڈرایا اور اس طرح ڈرایا کہ اس کے لیے اپنے رات دن ایک کردیئے تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آجائے گا ؟ اگر وہ سزا وار عذاب ہیں تو انہیں جو دولت و عزت حاصل ہے وہ کیوں حاصل ہوئی ؟ یہ عزت شوکت تو دلیل ہے کہ وہ خدا کی نظروں ک میں معزز ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی اسی طرح معزز رہیں گے جس طرح یہاں ہیں۔ اس مغالطہ میں پڑ کر وہ رسول کے ہر وقت کے انداز عذاب سے اس درجہ برا فروختہ ہوئے کہ اس کو انہوں نے دیوانہ اور خطبی کہنا شروع کردیا کہ اس شخص کو عذاب اور قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے اس کو ہر طرف سے عذاب ہی آتا دکھائی دیتا ہے یہ کہہ کر وہ اپنے دل کا غصہ بھی نکال لیتے اور اپنے عوام کو بھی اطمینان دلانے کی کوشش کرتے کہ رسول کے انداز سے وہ متاثر نہ ہوں۔ یہ کوئی رسول نہیں بلکہ ایک خبطی ہے جو ہر وقت عذاب عذاب کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ (وازدجر) سے اشارہ قوم نوح کی ان دھمکیوں کی طرف ہے جو حضرت نوح ؑ کو سنگسار کردینے کی دی گئیں۔ مثلاً سورة شعراء میں آیا ہے (قالو الئن تم تنتہ یتوح لتکونن من المرجومین) (116) (انہوں نے دھمکایا کہ اے نوح، اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے ہوئے لوگوں میں ہو کے رہو گے !)