تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿11﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومنو
- اِذَا قِيْلَجب کہاجائے
- لَكُمْتمہیں
- تَفَسَّحُوْاتم کھل کر بیٹھو
- فِي الْمَجٰلِسِمجلسوں میں
- فَافْسَحُوْاتو تم کھل کر بیٹھ جایا کرو
- يَفْسَحِکشادگی بخشے گا
- اللّٰهُاللہ
- لَكُمْ ۚتمہیں
- وَاِذَا قِيْلَاور جب کہا جائے
- انْشُزُوْاتم اٹھ کھڑے ہو
- فَانْشُزُوْاتو اٹھ جایا کرو
- يَرْفَعِ اللّٰهُبلند کردے گا اللہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- مِنْكُمْ ۙتم میں سے
- وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں کو
- اُوْتُوا الْعِلْمَعلم عطا کیا گیا
- دَرَجٰتٍ ۭدرجے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو کچھ
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے ایمان والو ! جب تم کو کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جائو، اللہ ان لوگوں کے، جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس فا فسحوا یفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت واللہ بما تعملون خبیر) (11)
(مجلس نبوی کو نجویٰ سے پاک رکھنے کے لیے بعض ہدایات)۔ منافقین کی سرگوشیاں یوں تو ہر مجلس و مقام میں ہوتی تھیں لیکن مجالس نبوی میں اس شرارت کے لیے وہ خاص اہتمام کرتے اس لیے کہ اسلام پر طعن، مسلمانوں کی دل آزادی و حوصلہ شکنی اور نبی ﷺ کی توہین و تضحیک کے مواقع سب سے زیادہ ان کو وہیں ملتے، چناچہ وہ مجلس نبوی میں اپنے مخصوص جتھے بنا کر بیٹھتے اور اس امر کا اہتمام رکھتے کہ کوئی غیر ان کے درمیان نہ گھسنے پائے تاکہ وہ حضور ﷺ کی باتوں پر جو نقد و تبصرہ اور جو طعن و طنز کرنا چاہیں آسانی سے کرسکیں۔ بسا اوقات وہ یہ بھی کرتے کہ حضور ﷺ مجلس سے اٹھ جاتے یا مجلس کے برخاست ہونے کا اعلان ہوجاتا لیکن یہ لوگ اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے دھرنا دیے بیٹھے رہتے تاکہ لوگوں کے اندر کچھ وسوسہ اندازی کریں یا آپس میں کسی نئی شرارت کی کوئی سکیم بنائیں۔ یہ صورتحال مقتضی ہوئی کہ مجلس نبوی سے متعلق کچھ ایسی ہدایات دے دی جائیں کہ منافقین اس کو اپنے شیطانی نجویٰ کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔
(بعض مجلس آداب)۔ (اذا قیل لکم نفسحوا فی المجلس فانفسجوا)۔ قرینہ دلیل ہے کہ مجلس سے یہاں مراد اصلاً مجلس نبوی ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ یہاں جو آداب بتائے جا رہے ہیں وہ مسلمانوں کی تمام مجالس کے لیے عام ہیں تاکہ ان کی ہر جلس میں مجلس نبوی ﷺ کا عکس پایا جائے۔ قرآن میں اسی طرح بعض جگہ لفظ مساجد جمع کی شکل میں استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ اصلاً اس سے مراد مسجد حرام ہے۔ جیسا کہ (انما یعمر مسجد اللہ (التوبۃ : 9، 18) میں ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ تعلیم دی گئی کہ جو ہدایت اس مرکزی مسجد سے متعلق دی جا رہی ہے وہی حکم تمام مساجد الٰہی کا ہوگا اس لیے کہ وہ سب اسی کے تابع ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب صدر مجلس کی طرف سے ہدایت کی جائے کہ لوگ مجلس میں کھل کر بیٹھیں تو اس حکم کی چون و چرا تعمیل ہونی چاہیے اور ایک دوسرے سے ہٹ ہٹ کر بیٹھنا چاہیے تاکہ دوسرے آنے والوں اور بیٹھنے والوں کو آسانی بھی ہوا اور منافقین کے لیے مجلس نبوی میں جتھ بندی کر کے بیٹھنے اور سرگوشیاں کرنے کی گنجائش بھی کم ہوجائے۔ اوپر ہم نے اشارہ کیا کہ منافقین مجلس نبوی میں ایک پارٹی کی شکل میں اس طرح بیٹھتے کہ ان کے جتھے سے باہر کے کسی آدمی کے لیے ان کے اندر گھسنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے تاکہ وہ جس ردعمل کا اظہار کرنا چاہیں اس میں نہ دوسرے کوئی مزاحمت پیدا کرسکیں، نہ ان کی سرگوشیوں ان کے اشاروں، کنائیوں اور ان کے طنز یہ فقروں کی پردہ دری ہو سکے۔ اپنے اس طرز عمل سے انہوں نے بعض اوقات بڑی بڑی الجھنیں پیدا کردیں جن کی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں بھی موجود ہیں اور قرآن نے بھی ان کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس سورة کے زمانہ دل میں، جیسا کہ واضح ہے، یہ فتنہ بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کے سدباب کے لیے ہدایت ہوئی کہ جب صدر مجلس کی طرف سے حکم دیا جائے کہ لوگ کھل کر بیٹھیں تو لوگوں کو اس حکم کی بےچون و چرا تعمیل کرنی چاہیے۔
(فافسحوا یفسح اللہ لکم) یعنی اگر تم دوسروں کے لیے کشادگی پیدا کرو گے تو اللہ بھی تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔ اگرچہ اس کا ظاہر مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جنت میں کشادگی پیدا کرے گا لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو انسان اپنا سینہ و دوسروں کے لیے کشادہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ دوسروں کے سینے اس کے لیے اس دنیا میں بھی کشادہ کردیتا ہے۔ آدمی کا ہر عمل، ظاہری ہو یا باطنی، نیک ہو یا بد، اپنا ایک قدرتی اثر رکھتا ہے جس کا حقیقی ظہور تو آخرت ہی میں ہوگا لیکن اس کے برگ و بار اس دنیا میں بھی دیکھتے جاتے ہیں بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔ (واذا قیل الشزوا فانشرزوا) یعنی اسی طرح صدر مجلس کی طرف سے اگر اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا جائے تو اس کی بھی بےچون و چرا، بغیر کسی احساس کتہیر کے، تعمیل کی جائے۔
اس حکم کی نوعیت اجتماعی بھی ہو سکتی ہے، انفرادی بھی، مطلب یہ ہے کہ پوری مجلس برخاست کردی جائے تو لوگ اس کو بھی بخوشی قبول کریں، یہ نہ خیال کریں کہ ہمارے وقت کی ناقدری کی گئی، ذاتی آرام کو جماعتی کام پر ترجیح دی گئی، ہمیں اظہار خیال کا موقع نہیں دیا گیا، اس بارے میں ہمارے رائے نہیں لی گئی۔ اسی طرح انفرادی طور پر بھی اگر کسی شخص کو ہدایت کی جائے کہ وہ مجلس میں اپنی جگہ سے اٹھ کر کسی دوسری جگہ بیٹھ جائے، یا مجلس سے باہر چلا جائے یا اپنی جگہ کسی دوسرے کے لیے خالی کر دے تو وہ اس حکم کی بھی بغیر کسی نکیر کے تعمیل کرے اجتماعی نظم زندگی کے احترام میں اگر وہ یہ کسر نفسی گوارا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس ایثار کو ذریعہ رفعت بنائے گا۔ (فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم۔۔۔ الایۃ) بالکل مقابل میں ہے۔ فافسحوا یفسخ للہ لکم کے یعنی اس کھڑے ہونے میں بظاہر دلت بھی ہو تو اللہ اسکو ان لوگوں کے لیے باعث عزت و رفعت بنائے گا جو تم میں سے اہل ایمان میں۔
یہاں (الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت) کے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر جو منافقین گھسے ہوئے ہیں وہ تو اس قسم کے حکم پر بہت ناک بھول چڑھائیں گے کہ ان کی توہین ہوئی کہ ان کو اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ دی گئی۔ ان میں سے بعض یہ بھی محسوس کریں گے کہ کیا وہ باعتبار علم و عمل فلاں اور فلاں سے فروتر تھے کہ ان کو ان کے اوپر ترجیح دی گئی لیکن جو اہل ایمان نہ اصحاب علم خوش دلی سے اس حکم کی تعمیل کریں گے اللہ تعالیٰ آخرت میں انکے مدارج پر مدارج بلند کرے گا۔ (واللہ بما تعملون خبیر) یہ ان اصحاب ایمان و علم کی تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ اس کو آگاہ ہونے کے لیے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہاری خدمات کا اشتہار اخباروں میں چھپے تب ہی اس کے علم میں آئے، تم دین و ملت کے قیام اور نظام جماعت کے احترام کی خاطر جو ایثار بھی کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے اور وہ اس کا بھر پور صلہ دے گا۔
(عصر حاضر کی مجالس کا حال)۔ یہ ہدایت اگرچہ اصلاً مجلس نبوی سے متعلق دی گئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی آداب مسلمانوں کی تمام مجالس میں ملحوظ ہونے چاہئیں۔ آج اہل مغرب کی کو رانہ تقلید میں جو طریقے اختیار کرلیے گئے ہیں اگرچہ ان کو بہت ترقی یافتہ خیال کیا جاتا ہے لیکن یہ انہی کی برکت ہے کہ ہماری پارلیمنٹیں اور کونسلیں اکھاڑے بنتی جا رہی ہیں جن میں مختلف پارٹیاں جتھے بنا بنا کر آتی ہی ایک دوسرے کو شکست دینے، اشارہ بازیاں اور سرگوشیاں کرنے، فقرے اور پھبتیاں چست کرنے کے لیے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات ایک دوسرے کا منہ نوچنے اور ان پر جوتے اور کرسیاں پھینکنے تک بھی نوبت آجاتی ہے اور صدر مجلس کو آداب مجلس کی یاددہانی کے بجائے پولیس کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے۔