تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 12
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومن
- اِذَاجب
- نَاجَيْتُمُتم کان میں بات کرو
- الرَّسُوْلَرسول
- فَقَدِّمُوْاتو تم دے دو
- بَيْنَ يَدَيْپہلے
- نَجْوٰىكُمْاپنے سرگوشی
- صَدَقَةً ۭکچھ صدقہ
- ذٰلِكَیہ
- خَيْرٌ لَّكُمْبہتر تمہارے لئے
- وَاَطْهَرُ ۭاور زیادہ پاکیزہ
- فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْاپھر اگر تم نہ پاؤ
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
(اے ایمان والو، جب تمہیں رسول سے راز دار انہ بات کرنی ہو تو اپنی راز دارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ کرو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ پس اگر اس کی استطاعت نہ پائو تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے آیات 12۔ 13 کا مضمون
اوپر کی آیات میں جس طرح مجلس نبوی کی سرگوشیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض تدبیریں بتائی گئی ہیں اس طرح آگے کی آیت میں خود ذات نبوی ﷺ کو سرگوشیاں کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہدایت دی گئی۔ جب یہ فتنہ بڑھا اور اس پر قرآن میں نکسیر بھی فرمائی گئی تو بہت سے منافقین نبی ﷺ سے راز دارانہ طور پر مل کر اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنے سر کا الزام دوسرے بےگناہوں کے سر تھوپنے کی کوشش میں لگ گئے۔ یہ لوگ کھلی مجلس میں تو اپنی صفائی پیش کرنے کا حوصلہ کر نہیں سکتے تھے اس وجہ سے ہر ایک کی کوشش یہ رہی ہوگی کہ اس کو حضور ﷺ سے خلوت میں بات کرنے کا موقع ملے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ آپ سے ملاقات پر بعض پابندیاں عائد کردی جائیں تاکہ ہر شخص آپ کا وقت ضائع نہ کرسکے۔ یہ حکم ایک ہنگامی حکم تھا کچھ عرصے کے بعد جب اس کا مقصد پورا ہوگیا تو یہ منسوخ کردیا گیا اور منسوخ کرنے والی آیت کو بھی قرآن کی ترتیب میں ابتدائی حکم کے ساتھ ہی جگہ دی گئی تاکہ نظم کلام کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہ پیش آئے اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا الذین امنوا اذا تاجیتم الرسول فقد موابین یدی نجولکم صدقۃ ذلک خیر لکم واطھر فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم) (12)۔
(سرگوشیوں کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی حکم)۔ یہ حکم جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرگوشیوں کی اس دبائے عام کے زمانے میں اس لیے دیا گیا کہ منافقین کو نبی ﷺ کے عزیز اوقات میں مداخلت سے روکا جائے۔ جب ان لوگوں کے رویہ پر گرفت ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کو فکر ہوئی کہ نبی ﷺ سے تنہائی میں مل کر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی کرے اور ہو سکے تو اپنے گناہوں کا بوجھ کسی دوسرے بےگناہ کے سرتھوپ دے۔ حضور ﷺ نے اپنی ملاقاتوں پر چونکہ کوئی پابندی نہیں رکھی تھی اس وجہ سے اس طرح کے اصحاب الاغراض حضور ﷺ کی اس فیاضی سے بہت غلط فائدے اٹھاتے۔ اس دور میں انہوں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہوگی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندی عائد کردی گئی کہ جو شخص آپ سے تنہائی میں کوئی راز دارانہ بات کرنی چاہیے وہ اس سے پہلے راہ خدا میں کچھ صدقہ کرے۔ اس حکم سے ان لوگوں کو مستثنیٰ رکھا گیا جو نادار ہوں تاکہ یہ حکم کسی غریب مسلمان کے لیے باعث زحمت نہ بنے اور صدقے کی کوئی مقدار بھی معین نہیں کی گئی تاکہ لوگ اس کو زیادہ گراں نہ محسوس کریں۔ اس سے اصل مقصود جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، منافقین کے بڑھتے ہوئے رجحان سرگوشی کی حوصلہ شکنی تھا۔ بخل اور حرص مال کی بیماری ان منافقین میں عام تھی۔ قرآن نے ان کی اس بیماری کی جگہ جگہ نشان دہی کی ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے یہ پابندی عائد کردی تاکہ نبی ﷺ سے تنہائی میں ملاقات کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ بن جائے کہ اس طرح کے لوگ اپنی بحالت کے سبب سے اول تو اس کا حوصلہ ہی نہ کریں اور اگر کریں تو ان کا انفاق ان کے لیے تظہیر و تزکیہ کا ذریعہ بنے اور فساد کی باتوں سے ان کو بچنے کی توفق حاصل ہو۔ (ذلک خیر لکم واطھر) اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ اگر تم اس پر نیک نیتی سے عمل کرو گے تو یہ تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ اور تمہارے دلوں کو پاک کرنے کا وسیلہ ہوگا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حکم پیغمبر ﷺ کے آرام و آسائش کے خیال سے نہیں بلکہ تمہاری صلاح و فلاح کے لیے دیا جا رہا ہے بشرطیکہ تم اس کی قدر کرو۔ (فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم) یعنی غریبوں اور ناداروں کے لیے بدستور پیغمبر ﷺ سے تنہائی میں ملنے اور عرض معروض کرنے کی راہ کھلی ہوئی ہے۔